BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 February, 2007, 23:08 GMT 04:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی سکینڈلز: دو اور استعفے
اسرائیلی پولیس کے سربراہ موشے کرادی پر ناشائستہ حرکات کا الزام تھا
اسرائیل میں حکومتی کمیشن کی ایک رپورٹ سامنے آنے کے بعد ملک کی پولیس کے سربراہ موشے کرادی نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ موشے کرادی پر ناشائستہ حرکات کا الزام تھا۔

اس سے قبل اتوار ہی کو ٹیکس اتھارٹی کے سربراہ جیکی متازا نے ان الزامات کے دوران استعفیٰ دے دیا تھا کہ ٹیکس میں چھوٹ کے عوض طاقتور کاروباری طبقہ تقرریوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

یہ دونوں استعفے اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ میں اعلیٰ سطح پر سامنے آنے والے سکینڈلز کی ایک کڑی قرار دیے جا رہے ہیں اگرچہ ان کا پہلے استعفوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کچھ ہفتے قبل اسرائیل کے صدر موشے کاتسو پر اپنے دفتر کی ایک ملازمہ کے ریپ اور طاقت کے ناجائز استعمال کا سکینڈل سامنے آیا تھا جبکہ اسرائیلی پولیس خود وزیرِ اعظم ایہود اولمرت کے خلاف مالی بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

حکومتی کمیشن جس نے ان پر الزامات کی تحقیق کی، اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ موشے کرادی کو ملازمت چھوڑ دینی چاہیے۔

تاہم موشے کرادی نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا لیکن وہ ایک مثال قائم کرنے کے لیے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

کمیشن نے کہا تھا کہ انہیں اس وجہ سے عہدے سے برخواست کر دیا جانا چاہیے کہ وہ انیس سو ننانوے میں ایک جرائم پیشہ مشتبہ کے قتل کی مکمل تحقیقات کو یقینی بنانے میں ناکام رہے۔

جس وقت یہ قتل ہوا تھا اس وقت موشے کرادی پولیس کمشنر نہیں تھے البتہ محکمے کے سربراہ تھے۔

مشتبہ جرائم پیشہ کو ہسپتال میں پولیس نے اس وقت قتل کیا تھا جب پولیس ان کی حفاظت پر مامور تھی۔

قتل کرنے والے پولیس افسر نے جسے بعد میں کسی دوسرے جرم کے ارتکاب پر گرفتار کر لیا گیا تھا، کہا تھا کہ اس نے ایک مشہور اسرائیلی خاندان کے کہنے پر قتل کیا تھا۔

اقرارِ جرم کے بعد یہ پولیس افسر میکسیکو فرار ہوگیا جسے وہاں پر کسی نے قتل کر دیا تھا۔ اسرائیلی پولیس نے عدم شہادت کی بنا پر یہ مقدمہ بعد میں بند کر دیا تھا۔

لیکن اعتراضات کے بعد حکومت نے ایک کمیشن کو یہ کام سونپا تھے کہ وہ یہ تعین کرے کہ آیا مقدمے کی کاررواًئی بند کر دینا مناسب تھا یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد