BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 April, 2007, 17:59 GMT 22:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ: مرنےوالے تینتیس ہو گئے

ورجینیا ٹیکنالوجی یونیورسٹی
فائرنگ کا یہ واقعہ ورجینیا ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں علی الصبح سات بجے کے قریب پیش آیا
امریکی ریاست ورجینیا کی ایک یونیورسٹی میں ایک مسلح شخص کی اندھا دھند فائرنگ سے کم از کم بتیس لوگ ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ کم سے کم پندرہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والا شخص بھی مارا جا چکا ہے۔ اس شحص کے بارے میں پولیس کو کچھ معلومات ملی ہیں جو اس نے ابھی عام نہیں کی۔


ذرا دیر پہلے وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں صدر بش نے اس واقعے پرگہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

فائرنگ کا یہ واقعہ ورجینیا ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں صبح سات بجے کے قریب پیش آیا۔ یہ یونیورسٹی دارالحکومت واشنگٹن سے دو سو ساٹھ میل دور ریاست ورجینیا کے بلیکس برگ شہر میں واقع ہے۔

موقع پر موجود طالب علموں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی کے دو مختلف حصوں میں وقفے و قفے سے شدید فائرنگ کی آوازیں سنیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو ہنگامی امداد کے لیے ایمبولینسیوں میں لے جاتا دیکھا گیا ہے۔ خیال ہے کہ فائرنگ کا نشانہ بننے والوں میں اکثریت طالب علموں کی ہے۔

طالب علموں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی کے دو مختلف حصوں میں وقفے و قفے سے شدید فائرنگ کی آوازیں سنیں

ابھی فائرنگ کے ذمہ دار شخص کی شناخت ظاہر نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی حکام اس واقعے کے محرکات کے بارے میں کچھ بتا پا رہے ہیں۔

یونیورسٹی میں اس وقت چھبیس ہزار کے قریب طالب علم زیر تعلیم ہیں۔

ورجینیا ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے پولیس چیف کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے ان واقعات میں کم از کم بیس افراد زخمی ہو ئے ہیں۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی سروس کو پہلی کال مقامی وقت کے مطابق سات بج کر پندرہ منٹ پر موصول ہوئی تھی جس میں یونیورسٹی کے ویسٹ ایملبر جونسٹن ہال میں فائرنگ کے کئی واقعات کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے کوئی دو گھنٹے بعد نورس ہال میں فائرنگ کا دوسرا واقعہ پیش آیا۔

ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو ہنگامی امداد کے لیے ایمبولینسیوں میں لے جاتا دیکھا گیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کا یہی خیال ہے کہ ان واقعات کے پیچھے ایک ہی شخص ہے جو نورس ہال میں ہلاک ہو چکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق تیز ہواؤں کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ طبی امداد کے لیے میڈیکل ہیلی کاپٹر استعمال نہیں کیے جا سکیں گے۔

واضح رہے کہ 1966 میں یونیورسٹی آف ٹیکساس میں ایک مسلح شخص کی فائرنگ سے کم از کم سولہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کمویرگل’موت کا فرشتہ‘
مونٹریال میں دہشت پھیلانے والا کمویرگل
پروفیسر رمضانامریکہ کےناپسندیدہ؟
پروفیسر رمضان اوکسفورڈ میں تعلیم دیں گے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد