امریکہ: سکول فائرنگ،3 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ریاست پینسلوینیہ میں ’آمِش ‘ برادری کے ایک مذہبی سکول میں ایک شخص نے گولی چلا کر تین لڑکیوں کو ہلاک اور آٹھ کو زخمی کرنے کے بعد اپنے آپ کو گولی مار لی۔ یہ واقعہ ریاست کے علاقے لینکاسٹر کاؤنٹی کے قصبے نکل مائنز میں سکول میں پیش آیا۔ اس مسلح شخص نے کلاس میں داخل ہو کر باقی لڑکیوں کے علاوہ سب کو باہر نکلنے کا حکم دیا۔ اس نے لڑکیوں کو گولی مارنے سے پہلے ان کے ہاتھ پیر باندھ دیے۔ پولیس نے حملہ آور کی شناخت کی ہے اور اس کا نام چالرلز کارک رابرٹز بتایا ہے جو ایک بتیس سالہ ٹرک ڈرائیور تھا۔ ا سکا امن پسند ’آمش‘ فرقے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ پچھلے ایک ہفتے میں امریکہ کے کسی سکول میں حملے کا تیسرا ایسا واقعہ ہے۔ آمش لوگ اینابپٹسٹ مسیحی کہلاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں ابھرنے والے اس گروہ سے تھا جو سترہویں صدی کے اوائل میں ابھرے تھے۔ یہ لوگ تجدیدِ بپتسما کے معتقد ہیں۔ جیک لوئس نے جو پینسلوینیہ پولیس کے ترجمان ہیں، سی این این کو بتایا کہ ایکحملہ آور سکول کے کمرے میں گھس گیا اور مبینہ طور پر اس نے کچھ بچوں سے چلے جانے اور کچھ کو رکنے کے لیئے کہا۔ بعد میں اس نے موجود بچوں پر گولی چلا دی اور اپنے آپ کو بھی گولی مار لی۔ سکول میں چودہ برس تک کی عمر کے طالب علم تھے اور کمرے میں تقریباً بیس سے تیس طلبا پڑھتے ہیں۔ | اسی بارے میں امریکہ: پارٹی کے شرکاء پر گولیاں26 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||