مونٹریال: ’موت کا فرشتہ‘ کون تھا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا کے شہر مونٹریال کے ایک سکول میں بدھ کے روز دہشت پھیلانے والے قاتل کی شناخت ہوگئی ہے۔ پچیس سالہ کمویرگل (KIMVEER GILL) نامی یہ شخص اپنے آپ کو ’موت کا فرشتہ‘ کہا کرتا تھا۔ ایک عورت کو جان سے مارنےاور متعدد افراد کو زخمی کرنے والا یہ شخص اپنے پیچھے ایک ویب سائٹ چھوڑ گیا ہے جس پر اس کی یاداشتیں محفوظ ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پچیس سالہ کمویرگل کے والدین کا تعلق بھارت سے ہے اور وہ اور اس کا ایک جڑواں بھائی اپنے والدین کے ہمراہ رہتے تھے۔ان کے والدین پرویندر سندھو اور گوریندر سنگھ نے یہ گھر 1988 میں خریدا تھا۔ مونٹریال میں بھارتی اور پاکستانی سے ہجرت کرنے والے لوگوں کے مشہور رہائشی علاقے لاوال میں واقع اس سفید اینٹوں سے بنے ہوئے گھر کے باہر آج فوٹوگرافروں اور رپورٹروں کا ہجوم ہے۔ اس کے علاوہ یہاں پولیس کا پہرہ بھی لگا ہوا ہے۔ چوبیس گھنٹے پہلے کمویرگل اسی گھر میں اپنی آخری یاداشت انٹرنیٹ پر لکھنے کے بعد جلدی سے گھر سے باہر نکلا اور شہر کے وسطی علاقے میں واقع ڈاسن سکول کی جابن تیز کار چلاتا چلا گیا جس میں اس وقت تین بندوقیں رکی ہوئی تھیں۔اس کو کالج پہچنے میں صرف بیس منٹ لگے۔ ہمسائیوں کے مطابق کمویرگل کے والدین اچھے لوگ ہیں مگر وہ خود عجیب وغریب شخصیت کا مالک تھا۔اس کے دیگر جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ خاصا تنہائی پسند تھا۔ کمویر گل اپنی ویب سائٹ پر لکھتا ہے: ’مجھے موت کے فرشتے کے طور پر جان جاؤ گے۔ مجھے اسکول سے نفرت ہے، کام سے نفرت ہے، زندگی سے نفرت ہے اور میں کیا کہوں، زندگی ایک ویڈیو گیم کی طرح ہے جس میں ایک روز آپ نے مر جانا ہے۔‘ اسی ویب سائٹ پر فوٹو گیلری میں ایک تصویر میں وہ ایک آٹومیٹک بندوق لیئے بیٹھا ہے جس کے نیچے لکھا ہے ’ Ready for Action‘ یا ’عمل کے لیئے تیار‘۔ ویب سائٹ پر حادثے سے دو گھنٹے قبل بھی اس نے کچھ لکھا تھیں جس کے بعد اسے ڈاسن اسکول میں پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا اور کمویر کے ہاتھوں زخمی ہونے والے متعدد افراد کو ہسپتال پہنچا دیا تھا۔ واضح رہے کہ ایک خاتون موقع پر ہی ہلاک ہو گئی۔
پولیس کمویر گل کے اپارٹمنٹ کی تلاشی لے کر اس سلسلے میں مزید تفتیش کر رہی ہے ۔ دریں اثناء پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ کمویر گل کی موت ان کی اپنی گولی سے ہوئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مونٹریال جنرل ہسپتال میں داخل کیئے گئے افراد میں سے چھ کی حالت شدید نازک بتائی جاتی ہے ، چار کی تشویشناک ہے جبکہ پانچ افراد کی حالت قدرے بہتر بتائی جاتی ہے ۔ پولیس کے سربراہ کے مطابق اس واقعے کی وجوہات کے بارے میں جاننے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم انہوں اس میں کسی بھی طرح کی نسلی منافرت یا دہشت گردی کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ مونٹریا شہر کے وسط میں واقع ڈاسن کالج ایک بہت بڑا اسکول ہے جس میں آٹھ سے دس ہزار طلباء و طالبات بیک وقت موجود ہوتے ہیں۔اس کالـج میں جنوبی ایشیائی ممالک خصوصاً بھارت اور پاکستان کے طالبعلموں کی بہت بڑی تعداد بھی زیر تعلیم ہے۔ یاد رہے کہ شہر میں پاکستانی اور بھارتی نژاد کینیڈین شہریوں کی تعداد چالیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ مونٹریال میں پاکستانی قونصل خانے سے مونا بیدون نے بتایا کہ اس واقعہ میں کسی پاکستانی نژاد طالبعلم کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ | اسی بارے میں کینیڈا: سکول فائرنگ، 19 زخمی13 September, 2006 | آس پاس واشنگٹن: پارلیمان عمارت میں فائرنگ؟26 May, 2006 | آس پاس کینیڈا: چھ افراد کی پیشی ہوگی06 June, 2006 | آس پاس ’ویلنٹائن ڈے قاتل کا سراغ مل گیا26 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||