BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 February, 2006, 09:49 GMT 14:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ویلنٹائن ڈے قاتل کا سراغ مل گیا
مرحومہ ادیبہ احمد
ادیبہ احمد کو اس کے شوہر نے خود قتل کیا: برطانوی عدالت
برطانیہ کی ایک عدالت نے ایک پاکستان نژاد ظہیر احمد کو اپنے بیوی ادیبہ کے قتل کا مجرم قرار دے دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق لندن کےسلاؤ کے قریبی علاقے لینگلی میں رہائش پذیر ظہیر احمد نے پولیس کو اپنی بیوی کی گمشدگی کی اطلاع دی۔

ظہیر احمد اور اس کی بیوی ادیبہ احمد ہتھیرو ائیر پورٹ پر ملازمت کرتے تھے۔

ظہیر احمد نے پولیس کو بتایا کہ اس نے آخری مرتبہ اپنی بیوی کو ہیتھرو ائیر پورٹ کے قریبی علاقے ہنسلو میں ایک ہیر ڈریسر سیلون پر ڈراپ کیا تھا اور اس کے بعد اس کو کوئی پتہ نہیں چلا ہے۔

پولیس کو دو دن بعد دریائے ٹیمز کے کنارے سے ایک سوٹ کیس ملا جس میں ایک لاش تھی۔

پولیس نے لاش ملنے کے بعد جب تحقیق شروع کی تو اس کو کچھ ایسے شواہد ملے جس سے پولیس کو مرحومہ ادیبہ کے شوہر پر شک ہوا۔

پولیس کو مرحومہ کے گھر سے دو ویلنٹائن کارڈ ملے جو اس نے ایک روز بعد آنے والے ویلنٹائن ڈے پر اپنے شوہر کو دینے تھے لیکن دونوں کارڈ لکھے نہیں گئے۔اس سے پولیس کو شبہ ہوا کہ ادیبہ کو ویلنٹائن ڈے سے پہلے ہی قتل کر دیا گیا تھا۔

دریائے ٹیمز
ظہیر احمد نے بیوی کو قتل کر کے دریائے ٹیمز میں بہا دی۔

پولیس کے مطابق بظاہر ظہیر احمد اور ادیبہ ایک پرسکون زندگی گزار رہے تھے لیکن حقیت میں ایسا نہیں تھا اور ظہیر کے والدین اپنی بہو کو اپنے بیٹے کے قابل نہیں تصور کرتے تھے۔

ظہیر احمد نے پولیس کو بتایا کہ اس نے اپنی بیوی کو ہنسلو کے بیوٹی پارلر پر ڈراپ کیا تاکہ وہ شام کو ڈنر پر جانے کے لیے تیار ہو جائے۔

پولیس نے جب علاقے کے اکتیس ہیر ڈریسرز سے معلوم کیا تو وہاں ادیبہ نام کے کسی گاہک کی کوئی بکنک نہیں تھیں اور نہ ہی کلوز سرکٹ ٹی وی پر ظہیر احمد کی گاڑی کے اس علاقے میں داخل ہونے کے کوئی شواہد تھے۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ تحقیق کارروں نے ظہیر احمد کے ڈی این اے کے شواہد مرحومہ کی انگلیوں پر ملے ہیں۔ اس کے علاوہ ظہیر احمد کی گردن پر بھی نشانات پائے گئے۔

ظہیر احمد کے ایک پڑوسی نے پولیس کو بتایا کہ اس نے تیرہ فروری کی رات دونوں میاں بیوی کو تکرار کرتے ہوئے سنا تھا اور اتنی بلند آواز میں تکرار کر رہے تھے کہ اس کو اپنے ٹی وی کی آواز بلند کرنی پڑی۔

پولیس کو سوٹ کیس سے بھی ظہیر احمد میں بچھائے گئے کارپٹ کے ٹکڑے ملے جس سے پولیس نے اخذ کیا کہ ظہیر نے اپنی بیوی کو گھر میں قتل کر کے لاش کو سوٹ کیس میں بند کر کے دریا میں پھنک دی تھی۔

عدالت نے پولیس کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے ظہیر احمد اپنی بیوی کا قاتل قرار دے دیا۔ظہیر احمد کو سزا جمعرات کو سنائی جائے گی۔

برطانیہ میں پھانسی کی سزا پر پابندی ہے۔

اسی بارے میں
برطانیہ: غیرت کے نام پر قتل
30 September, 2003 | آس پاس
جبری شادی کے قانون پر بحث
05 September, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد