BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شادی یا روایت کے نام پر بلیک میل
شبانہ ڈیلاوالا
شبانہ ڈیلاوالا اگست سن دو ہزار ایک میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔ ان کی شادی کی تقریبات روایتی مشرقی انداز میں بڑے دھوم دھام سے انجام پائی۔ شادی کی تقریبات ایک ہفتے تک جاری رہیں اور ان کی رخصتی میں پانچ سو افراد شریک ہوئے۔

برطانیہ میں ہونے والی یہ شادی مشرقی انداز میں انجام پائی حتٰی کہ مہر بھی ایک سو ایک پونڈ مقرر ہوا۔

لیکن اتنی دھوم دھام سے انجام پانے والی شادی ایک سال بھی نہ نکال سکی اور ایک سال بعد ہی شبانہ پر طلاق کا غم ٹوٹ پڑا۔

شبانہ کی بدقسمتی طلاق ہی پر ختم نہیں ہوئی۔ طلاق سے بڑا دھچکہ انہیں اس وقت لگا جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ برطانوی قانون کے تحت ان کی شادی کی کوئی حیثیت نہیں تھی اور طلاق کے بعد مہر کے علاوہ ان کو اپنے سابق شوہر کی جائیداد اور اثاثوں پر کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔

شبانہ کا خیال تھا کہ ’ کامن لاء وائف‘ کے تحت ان کو بیوی ہونے کا قانونی حق حاصل ہے لیکن طلاق کے بعد ان پر یہ انکشاف ہوا کہ برطانوی قانون میں ’کامن لاء وائف‘ کوئی اصطلاح موجود نہیں اور اس کے کوئی معنی نہیں۔

شبانہ نے کہا کہ شادی کے وقت کوئی عورت طلاق کے بارے میں نہیں سوچتی اور انہیں بھی اس بارے میں کوئی خیال نہیں آیا۔ اسی لیے انہوں نے بھی اسلامی طریقے سے انجام پانے والی اس شادی کے برطانوی قانون کے تحت اندارج پر زور نہیں دیا۔

طلاق سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والی وکیل آئینہ خان نے، جو شبانہ کی بھی وکالت کر رہی ہیں، کہا کہ وہ اس طرح کی بہت سے لڑکیوں کو جانتی ہیں جن کو اسی صورت حال کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں اسلامی طریقہ کار کا کوئی دخل نہیں جس کی وجہ سے لڑکیاں اپنے قانونی حق سے محروم ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی طریقہ کار میں لڑکیوں کے معاشی حقوق کا بھرپور طریقے سے تحفظ ممکن ہے۔

آئینہ خان کے مطابق مشرقی لڑکیوں کو گھسی پٹی روایات میں جکڑ دیا جاتا ہے اور وہ شادی کے وقت اپنے حقوق کے تحفظ پر اصرار نہیں کرتیں۔ ان کے نکاح میں پچاس یا ایک سو ایک پونڈ کی رقم طے کر دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا اسلامی طریقے سے طلاق کے بعد بغیر کسی بدمزگی کے ان امور کو طے کیا جاسکتا ہے اور اس سلسلے میں عدالتوں سے رجوع کرنے کی ضرورت بھی نہ پیش آئے۔

شبانہ نے کہا کہ انہوں نے اپنا قانونی حق حاصل کرنے کے لیے بہت سے تنظیموں سے رجوع کیا لیکن وہ ان کی مدد کرنے سے قاصر تھیں۔

اسی کوشش میں انہوں نے ’علم اور انصاف‘ کے نام سے ایک گروپ تشکیل دیا اور ان کا ایسی بہت سے عورتوں سے رابط ہو گیا جو اسی صورت حال سے دو چار ہیں۔

شبانہ اپنے مقدمے کی خود پیروی کرنا چاہتی ہیں اور اب وہ اپنی نوکری سے وقت نکال کر اس مسئلہ پر تحقیق کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ سب کچھ پیسے کے لیے نہیں کر رہی ہیں بلکہ وہ اس نانصافی کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔

’آخر اس ناانصافی کے خلاف کسی کو تو کھڑا ہونا ہے اور کوئی تو کس کو تو ان روایات کو توڑنا ہوگا۔‘

آئینہ خان کہتی شبانہ سے اتفاق کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ عورتوں کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس روایات کو ختم کرنا ہوگا کہ اپنے حق پر اصرا کرنا کوئی غیر اخلاقی یا غیر شرعی بات ہے۔

شادی کے وقت اپنے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سارے قانونی تقاظے پورے کئے جانے چاہیں تاکہ بعد میں عدالتوں کے چکر نہ لگانے پڑئیں اور پوری کمیونٹی کی بدنامی نہ ہو۔

برطانیہ کی ایک تنظیم مسلم پارلیمنٹ نے ایک کانفرنس ترییب دی جس میں امام مسجد اس بات پر ضرور دیں گے کہ اسلامی طریقے سے طے ہونے والی شادیوں کا اندراج برطانوی قوانین کے تحت بھی کیا جائے۔

شبانہ کا خیال ہے کہ اس سے مسئلہ کا حل نہیں ہوگا۔ ان کا خیال ہے شادی شدہ جوڑوں کو اپنی شادیاں برطانوی قوانون کے تحت رجسٹر کرانا چاہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد