مظاہرین پر فائرنگ کی امریکی مذمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے ازبکستان کے شہر آندیجان میں نہتے مظاہرین پر گولیاں چلائِے جانے کی مذمت کی ہے۔ ازبکستان کی جاری صورت حال پر امریکہ کی طرف سے اب تک دیا جانے والا یہ سب سے سخت بیان ہے۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ کو فوج کی طرف سے مظاہرین پر گولیاں چلائے جانے کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی دفتر خارجہ نے اس بیان میں جیل پر حملہ کرنےاور حکومتی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کی بھی مذمت کی ہے۔ بیان میں امریکہ نے ازبکستان کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس کو متاثرہ علاقوں تک مکمل رسائی مہیا کرے۔ البتہ وزارت خارجہ کے ترجمان رچرڈ باوچر نے کہا ہے اس مسئلے کا دیرپا حل صرف ازبکستان کی حکومت کے ہی ہاتھ میں ہے۔ رچرڈ باؤچر نے کہا ہے کہ ’اور ہم اس بات پر اصرار کرتے رہیں گے کہ ازبکستان میں استحکام کا انحصار حکومت کے عوام سے بہتر روابط قائم کرنے اور سیاسی و اقتصادی اصلاحات متعارف کرانے ہی میں ہے۔ اس کے علاوہ انہیں قانون کی پاسداری اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مسائل بھی حل کرنا ہوں گے۔‘ واضع رہے کہ گزشتہ ہفتے ازبکستان کے شہر آندیجان میں مظاہرین نے ایک جیل پر حملہ کر کے کئی قیدیوں کو رہا کرا لیا تھا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوج نے گولی چلا دی جس سے اطلاعات کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے۔ ازبکستان کی اس صورت حال سے صدر بش کے لیے سفارتی پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ ایک طرف تو ازبکستان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی قریبی اتحادی ہے تو دوسری طرف اس کا آمرانہ رویہ جمہوریت کے فروغ کے لیے امریکہ کے ایجنڈے کے سراسر منافی ہے۔ ادھر آندیجان سے فرار ہو کر رات بھر کا پیدل سفر طے کرنے کے بعد تقریباً پانچ سو افراد کا ایک قافلہ کرغستان پہنچا ہے اور اس میں شامل لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے کئی ساتھی ازبک فوج کی فائرنگ سے سرحد پر ہلاک ہوئے ہیں۔ کرغستان پہنچنے والوں میں وہ بزنس مین بھی شامل ہیں جن پر اسلامی شدت پسندی کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا تھا اور اور جنہیں جیل پر حملے کے دوران رہا کرا لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بالکل اندازہ نہیں ہے کہ حکومت ان پر شدت پسند ہونے کا الزام کیوں لگا رہی ہےـ کرغستان پہنچنے والوں میں زیادہ تر مرد ہیں تاہم ان میں کچھ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کے ان کی رہائی اور مظٌاہروں کا انتظام کس نے کیا تھا تو اکثر کا کہنا تھا کہ انھیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||