ازبکستان: بد امنی پھیل رہی ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ازبکستان کے شہر اندیجان میں بدامنی کو دبانے کی پرتشدد کوششوں کے بعد بدامنی مزید پھیلنے کی اطلاعات ہیں اور سرحدی شہرقراسو پر شہریوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ بی بی سی کے نمائندے کے مطابق قراسو میں مقامی لوگوں نے مرکزی حکومت کے نمائندوں کو شہر سے نکال دیا ہے اور کہا اب وہ شہر کا نظام خود سنبھالیں گے۔ آندیجان میں حکومت کی طرف مظاہرین کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے بعد کراسو میں مظاہرین نے سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کر دیا اور شہر کے مئیر کو بھی زدوکوب کیا۔ شہریوں نے ازبکستان اور کرغستان کو ملانے والا وہ پل بھی تعمیر کر لیا ہے جسے ازبک حکومت نے گرا دیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس پل کی وجہ سے بھی قراسو کے لوگوں میں خاصی بے چینی پائی جاتی تھی کیونکہ قراسو کے لوگ روزگار کے سلسلے میں اس پل کے ذریعے کرغستان جاتے تھے۔ علاقے میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق ازبکستان کی حکومت نے آندیجان میں سخت فوجی کارروائی اس امید سے کی تھی کہ اس کے بعد کوئی اور شورش نہیں پھیلے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جمعہ کو فوج کی فائرنگ سے کتنے لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ درجنوں سے لے کر سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے اندازے لگائے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف بہت سے لوگ شہر کی سڑکوں، مردہ خانوں اور ہسپتالوں میں اپنے لاپتہ عزیزوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ آندیجان میں نامہ نگاروں نے کہا کہ انہوں نے سڑکوں پر تقریباً پچاس لاشیں دیکھی تھیں۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے ڈاکٹروں کے حوالے سے بتایا کہ ایک سکول میں پانچ سو لاشیں شناخت کے لیے رکھی گئی ہیں۔ کچھ عینی شاہدین کے مطابق تین سو کے قریب افراد فوج کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ ہلاکتوں کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار اس سے بہت کم ہیں۔ سنیچر کی رات اور اتوار کے صبح شہر میں قدرے خاموشی تھی۔ اطلاعات کے مطابق شہری گلیوں سے خون اور انسانی بال صاف کرتے رہے۔ پانچ سو تیس افراد پر مشتمل پناہ گزینوں کے ایک قافلے کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ سرحد پار کر کے کرغیزستان میں ریڈ کراس کے کیمپ میں پناہ لے چکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||