ازبکستان: بڑی تعداد میں مظاہرین ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ازبکستان کے مشرقی شہر آندیجان میں سینکڑوں لوگوں کی ہلاکت کے باوجود ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ازبکستان کے مشرقی شہر آندیجان میں عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ دو سو لاشیں دیکھی گئی ہیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوجیوں کو سینکڑوں لاشیں ٹرکوں پر لادتے ہوئے دیکھا ہے۔ ازبکستان کے صدر اسلام کریموف نے ’شدت پسندوں ‘ کو ان ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔اسلام کریموف نے کہا کہ دس فوجیوں کے علاوہ ’کئی اور بھی‘ مارے گئے ہیں۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ فوج نے نہتے عام شہریوں پر گولیاں چلائیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے شہر پر دوبارہ قبضہ جما لیا اور تمام سرکاری عمارتوں پر اس کا قبضہ ہے۔ عینی شاہدوں کے مطابق ہزاروں لوگ سڑکوں میں نکل آئے ہیں اور’ قاتل صدر‘ ’قاتل صدر‘ کے نعرے لگا رہے ہیں ۔ مظاہرین کا مطالبہ کہ صدر اسلام کریموف مستعفی ہو جائیں۔ مظاہرین میں سے ایک نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو کہا ’ یہ کس طرح کی حکومت ہے ۔ لوگ اپنے آپ کو نہتا ثابت کرنے کے لیے اپنے دونوں ہاتھ فضا میں بلند کر رہے تھے لیکن اس کے باوجود فوجی ان پر گولیاں چلا رہے تھے‘ اندیجان میں کئی دنوں کے پرامن مظاہروں کے بعد تشدد کی کارروائیاں شروع ہوئی ہیں۔ مظاہرین کو تیئس مقامی کاروباری حضرات کی گرفتاری پر مظاہرے کر رہے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے لوگ شدت پسند مسلمان ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک جلوس نے فوجی چھاؤنی سے اسلحہ چھینے کے بعد اس جیل پر حملہ کر کے گرفتار لوگوں کو آزاد کرالیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے سرکاری عمارتوں پر بھی قبضہ کر لیا اور کئی سرکاری ملازموں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ ازبکستان کی فوج صج صادق کے وقت شامل میں داخل ہو گئی اور شہر کے مرکزی حصے میں جمع مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے سرکاری عمارت کے قریب چیختے ہوئے ایک گروہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’صدر کاریموف پر تف ہے کہ جنہوں نے اپنے ہی عوام پر فائرنگ کی۔‘ جمعہ کے روز فوج کو بارہا لوگوں کے ہجوم پر گولی چلاتے اور مسلح مظاہرین سے فائرنگ کا تبادلہ کرتے دیکھا گیا تھا۔ ہسپتال کے ذرائع نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک دن میں پچاس سے زائد افراد ہلاک اور اس سے کہیں زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||