’مجھے سزائے موت چاہیے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ریاست کنیکٹیکٹ میں ایک سیریل کلر کو سزائے موت دی گئی ہے۔ گزشتہ پیتالیس سال میں یہ بار ہوا ہے کہ یہاں کسی شخص کو سزائے موت دی گئی ہے۔ 45 سالہ مائیکل روس نے سزائے موت کے خلاف مہم چلانے والوں اور یہاں تک اپنے گھر والوں کی جانب سے اسے بچانے کی کوششوں کو مسترد کردیا تھا۔ مائیکل کو آج صبح زہریلا انجیکشن دے کر سزائے موت دی گئی۔ مائیکل روس نے 1980 کی دہائی میں آٹھ نوجوان لڑکیوں کی آبرو ریزی کے بعد انہیں ہلاک کیا تھا اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے گناہوں کی سزا پانا چاہتا ہے۔ سزائے موت کے اس واقعہ سے ریاست میں تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے جہاں اس طرح کی سزا شاذو نادر ہی دی جاتی ہے۔ گزشتہ برس روس نےاپنے ہاتھوں قتل ہونے والی لڑکیوں میں سے ایک کی ماں کو ٹی وی پر دیکھنے کے بعد اپنی زندگی بچانے کی تمام اپیلوں کو مسترد کر دیا تھا۔ لیکن روس کے گھروالوں اور سزائے موت کے خلاف مہم چلانے والوں کا کہنا تھا کہ روس 18 برس تک چلنے والی مقدمے کی کاروائی سے تھک گیا ہے اس لئے ایسا کہہ رہا ہے۔ جمعرات کو نیویارک کی اپیل کورٹ اور امریکی سپریم کورٹ نے روس کے والد کی جانب سے کی جانے والی اپیل کو مسترد کرتے ہوئہ کہا کہ اس سے قیدیوں میں خود کشی کے رجحانات میں اضافہ ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||