| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
'قاتل بننے کے خواب دیکھتا تھا‘
وسطی چین میں دو سال کے دوران سترہ بچوں کے قاتل نے اعتراف کیا کہ وہ بچپن ہی سے قاتل بننے کا خواب دیکھا کرتا تھا۔ عدالت نے اس اعتراف جرم کے بعد انتیس سالہ ہانگ ینگ کو سزائے موت سنائی ہے۔ اس مقدمے کے انکشاف کے بعد وسطی چین میں پولیس، اس کی کارکردگی اور طریقۂ کار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ قتل ہونے والے تمام لڑکے وسطی صوبہ ہینان میں دو سال کے عرصے کے دوران ایک سائبر کیفے سے غائب ہوئے تھے۔ تمام لڑکوں کی نعشیں اور جسم کے مختلف حصے ہانگ ینگ کے گھر سے برآمد کیے گئے۔ مقامی اخبارات کے مطابق کچھ لڑکوں کے والدین اس بات کا ارادہ رکھتے ہیں کہ پولیس کے خلاف بھی مقدمہ دائر کریں کہ اس نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت سے کام لیا۔ انتظامیہ اس سلسلے میں اب تک پولیس کے پانچ اہلکاروں کو فرائض سے غفلت کی بنا پر برطرف کیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے ایک اور مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں شبہ کیا جا رہا ہے کہ اس نے اب تک سڑسٹھ افراد کو قتل کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||