BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 December, 2003, 18:39 GMT 23:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
'قاتل بننے کے خواب دیکھتا تھا‘
ہانگ ینگ
قاتل ہانگ ینگ پولیس کی حراست میں

وسطی چین میں دو سال کے دوران سترہ بچوں کے قاتل نے اعتراف کیا کہ وہ بچپن ہی سے قاتل بننے کا خواب دیکھا کرتا تھا۔

عدالت نے اس اعتراف جرم کے بعد انتیس سالہ ہانگ ینگ کو سزائے موت سنائی ہے۔

اس مقدمے کے انکشاف کے بعد وسطی چین میں پولیس، اس کی کارکردگی اور طریقۂ کار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ قتل ہونے والے تمام لڑکے وسطی صوبہ ہینان میں دو سال کے عرصے کے دوران ایک سائبر کیفے سے غائب ہوئے تھے۔

تمام لڑکوں کی نعشیں اور جسم کے مختلف حصے ہانگ ینگ کے گھر سے برآمد کیے گئے۔

مقامی اخبارات کے مطابق کچھ لڑکوں کے والدین اس بات کا ارادہ رکھتے ہیں کہ پولیس کے خلاف بھی مقدمہ دائر کریں کہ اس نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت سے کام لیا۔

انتظامیہ اس سلسلے میں اب تک پولیس کے پانچ اہلکاروں کو فرائض سے غفلت کی بنا پر برطرف کیا ہے۔

اس کے علاوہ پولیس نے ایک اور مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں شبہ کیا جا رہا ہے کہ اس نے اب تک سڑسٹھ افراد کو قتل کیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد