BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 May, 2005, 03:53 GMT 08:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظاہرین پر فائرنگ، ایک ہلاک
News image
تشدد کے بعد تاشقند کی سڑکوں پر ٹینک تک آئے ہیں
ازبکستان میں سکیورٹی فورسز نے آندیجان شہر میں ہونے والے ایک بڑے مظاہرے پر فائرنگ کر دی جس سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔

ازبکستان کے صدر اسلام کریموف آندیجان کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔ وہ وسطی ایشیائی سربراہان میں امریکہ کے اتحادی ہیں۔

ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے اسرائیلی سفارتخانے کے قریب ایک مشتبہ خودکش بمبار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

اس سے پہلے ازبکستان میں مسلح افراد نے ایک جیل پر قبضہ کر کے سینکڑوں کی تعداد میں مجرموں کو رہا کر دیا جس کے بعد شہر میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔

ازبکستان کے تیسرے بڑے شہری آندیجان میں مسلح افراد کے جیل پر قبضے اور قیدیوں کو رہا کرنے کے بعد، ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ فضا میں فوجی ہیلی کاپٹر پرواز کرنے لگے تاہم فوج سڑکوں پر نہیں آئی۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ نصف شب کے قریب تقریباً ایک سو افراد گولیاں چلاتے ہوئے جیل میں داخل ہوگئے اور انہوں نے جیل کے کئی محافظوں کو ہلاک کر دیا۔ بعد میں کئی گھنٹوں تک بموں کے دھماکوں اور گولیاں چلنے کی آوازیں آتی رہیں۔ اس سے قبل مسلح افراد نے ایک فوجی چھاؤنی پر بھی حملہ کیا تھا۔

یہ واقعہ ازبکستان کے مشرقی شہر آندیجان میں پیش آیا جو سیاسی طور پر ملک کا انتہائی حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔

قیدیوں کو رہا کرانے والوں کے پاس خودکار رائفلیں اور شارٹ گنز تھیں اور وہ پندرہ کے قریب گاڑیوں میں بیٹھ کر جیل پہنچے۔

واقعہ دیکھنے والوں نے بتایا ہے کہ مسلح افراد نے جیل کے گارڈز پر گولیاں چلا دیں جس سے کئی محافظ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ اس کے بعد مسلح افراد نے جیل کے دروازے کھول دیئے اور قیدیوں کو رہا کردیا۔

جیسے ہی دروازے کھلے جیل سے قیدیوں قطار در قطار باہر نکلنا شروع ہوگئے۔ ان میں سے بہت سے وہ تھے جنہوں نے قیدیوں کا لباس پہن رکھا تھا جبکہ کچھ کے پاس بندوقیں بھی تھیں۔

رہا ہونے والے قیدیوں میں سے بہت سے شہر کی طرف دوڑ پڑے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ جیل پر قبضے اور قیدیوں کی رہائی میں بیس منٹ لگے ہوں گے۔

پانچ گھنٹے بعد تک مسلح افراد جیل ہی میں تھے اور جیل کے در و دیوار پر ان کا مکمل قبضہ تھا۔

رہائشیوں نے بتایا ہے کہ جیل ٹوٹنے کے واقعے سے پہلے بھی مسلح افراد نے اس چھاؤنی پر حملہ کیا جہاں پانچ سو فوجی تھے۔ حملہ ہوتے ہیں فوجی بھاگ گئے اور انہوں نے قریبی عمارتوں کے پیچھے چھپ کر پناہ لی۔

آندیجان میں حال ہی میں ایک پرامن مگر بڑا مظاہرہ ہوا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسلامی شدت پسندی کے الزام کے تحت نوجوانوں کے جس گروپ پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے اس انصاف فراہم کیا جائے۔

تاہم ابھی تک واضح ثبوت نہیں ہے کہ اس طرح کے پرامن مظاہرے کا جیل کے توڑے جانے کے واقعے سے کوئی تعلق ہو۔

ازبکستان میں حکومت کا تختہ الٹنے کی مبینہ کوششوں میں اسلامی گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد کو جیلوں میں بند کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد