BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 May, 2005, 10:59 GMT 15:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ازبک مظاہرین:ایک اور شہر پر قبضہ
آندیجان میں مظاہرے
ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا
ازبکستان کے شہر اندیجان میں بدامنی کے بعد سرحدی شہرخراسو میں مظاہرین نے شہر پر قبضہ کر لیا ہے۔

بی بی سی کے نمائندے کے مطابق خراسو میں مقامی لوگوں نے مرکزی حکومت نمائندوں کو شہر سے نکال دیا ہے اور خود ایک میٹنگ کر رہے ہیں تاکہ شہر کا انتظام کیسے سنھبالا جائے۔

آندیجان میں حکومت کی طرف مظاہرین کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے بعد خراسو میں مظاہرین نے سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کر دیا اور شہر کے مئیر پر بھی حملہ کیا۔

مظاہرین نے ایک عارضی پل بھی تعمیر کر لیا ہے جس سے وہ پڑوسی ملک کرخستان میں جا سکتے ہیں۔

علاقے میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق ازبکستان کی حکومت نے آندریجان میں سخت فوجی کارروائی اس امید سے کی تھی کہ اس کے بعد کوئی اور شورش نہیں پھیلے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جمعہ کے روز فوج کی فائرنگ سے کتنے افراد ہلاک ہوئے تھے۔ درجنوں سے لے کر سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے تخمینے پیش کیے جا رہے ہیں۔

دوسری طرف بہت سے لوگ شہر کی سڑکوں، مردہ خانوں اور ہسپتالوں میں اپنے لاپتہ عزیزوں کو تلاش کر رہے ہیں۔

آندیجان میں نامہ نگاروں نے کہا کہ انہوں نے سڑکوں پر تقریباً پچاس لاشیں دیکھی تھیں۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے ڈاکٹروں کے حوالے سے بتایا کہ ایک سکول میں پانچ سو لاشیں شناخت کے لیے رکھی گئی ہیں۔ کچھ عینی شاہدین کے مطابق تین سو کے قریب افراد فوج کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔

ہلاکتوں کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار اس سے بہت کم ہیں۔

سنیچر کی رات اور اتوار کے صبح شہر میں قدر خاموشی تھی۔ اطلاعات کے مطابق شہری گلیوں سے خون اور انسانی بال صاف کرتے رہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق ایک سرکاری عمارت سے دھواں اٹھ رہا تھا جبکہ فائرنگ کی آواز بھی سنائی دی۔

ازبک صدر کریموف نے آندیجان میں ہونے واقعات اور ہلاکتوں کا ذمہ دار جرائم پیشہ افراد اور اسلامی انقلابیوں کو قرار دیا جن کا تعلق کالعدم قرار دی جانے والی جماعت حزب التحریر سے بتایا جاتا ہے۔

لیکن یہ بھی کہا گیا کہ صدر کریموف اپنے مخالفین کو ختم کرنے کے لیے اسلامی شدت پسندوں کا نام لے رہے ہیں۔

صدر کریموف نے ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ میں امریکہ اور روس کی حمایت کی ہے۔

صدر اسلام کریموف نے کہا تھا کہ دس فوجیوں کے علاوہ ’کئی اور بھی‘ مارے گئے ہیں۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ فوج نے نہتے عام شہریوں پر گولیاں چلائیں۔

پانچ سو تیس افراد پر مشتمل پناہ گزینوں کے ایک قافلے کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ سرحد پار کر کے کرغیزستان میں ریڈ کراس کے کیمپ میں پناہ لے چکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد