فائرنگ کے گواہ نے کیا دیکھا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نکولس ماکو ورجنیا میں اپنی کلاس میں تھے جب ایک شخص نے عمارت میں گھس کر فائرنگ شروع کر دی۔ ماکو نے بی بی سی نیوز کو اس واقعے کی تفصیل بتائیں۔ وہ نارِس ہال میں اپنی کلاس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نو بج کر چالیس منٹ پر ہال سے زوردار آوازیں سنائی دیں۔ پہلےتو وہ نہیں سمجھ سکے کہ یہ کیا تھا۔ جب آوازیں دوبارہ سنائی دیں تو ایک لڑکی نے دروازہ بند کر دیا۔ اس نے دروازہ سے جھانک کر حملہ آور کو دیکھ لیا تھا۔
حملہ آور نے اپنے خالی پستول میں دوبارہ گولیاں بھر کر پھر ایک فائر کیا۔ اس بار گولی دروازے کو نہیں چیر سکی۔ وہ پھر دوسرے کلاس روم کی طرف بڑھ گیا۔ حملہ آور کئی منٹ تک فائر کرتا رہا۔ اس نے اسّی سے لے کر ایک سو تک راؤنڈ چلائے ہوں گے۔ ماکو نے کہا کہ پولیس کے آنے تک فائرنگ جاری تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ سب بہت دیر تک چلتا رہا لیکن گھڑی دیکھ کر اندازہ ہوا کہ یہ تقریباً پچیس منٹ کی بات تھی۔ میں نے دوسری کلاسوں میں نہیں جھانکا لیکن جنہوں نے ان میں دیکھا انہوں نے کہا کہ ’بہت افسوسناک تھا‘۔ | اسی بارے میں امریکہ: مرنےوالے تینتیس ہو گئے16 April, 2007 | آس پاس امریکی درسگاہوں میں قتل کے واقعات17 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||