BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 April, 2007, 01:28 GMT 06:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فائرنگ کے گواہ نے کیا دیکھا؟
نکولس ماکو
’یہ سب کچھ شاید پچیس منٹ میں ہو گیا‘
نکولس ماکو ورجنیا میں اپنی کلاس میں تھے جب ایک شخص نے عمارت میں گھس کر فائرنگ شروع کر دی۔ ماکو نے بی بی سی نیوز کو اس واقعے کی تفصیل بتائیں۔ وہ نارِس ہال میں اپنی کلاس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نو بج کر چالیس منٹ پر ہال سے زوردار آوازیں سنائی دیں۔ پہلےتو وہ نہیں سمجھ سکے کہ یہ کیا تھا۔

جب آوازیں دوبارہ سنائی دیں تو ایک لڑکی نے دروازہ بند کر دیا۔ اس نے دروازہ سے جھانک کر حملہ آور کو دیکھ لیا تھا۔

افسوسناک
 میں نے دوسری کلاسوں میں نہیں جھانکا لیکن جنہوں نے ان میں دیکھا انہوں نے کہا کہ ’بہت افسوسناک تھا‘۔
نکولس ماکو
تین طالب علموں نے مِل کر ایک بڑی بنچ جس پر چالیس لوگ بیٹھتے ہیں دروازہ کے آگے رکھ دی۔ کچھ ہی سیکنڈ گزرے ہوں گے کہ حملہ آور نے دروازہ کھولنے کی ناکام کوشش کی۔ اس نے دو گولیاں چلائیں جس دروازے میں دو سوراخ کرتی ہوئی گزر گئیں۔

حملہ آور نے اپنے خالی پستول میں دوبارہ گولیاں بھر کر پھر ایک فائر کیا۔ اس بار گولی دروازے کو نہیں چیر سکی۔ وہ پھر دوسرے کلاس روم کی طرف بڑھ گیا۔

حملہ آور کئی منٹ تک فائر کرتا رہا۔ اس نے اسّی سے لے کر ایک سو تک راؤنڈ چلائے ہوں گے۔

ماکو نے کہا کہ پولیس کے آنے تک فائرنگ جاری تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ سب بہت دیر تک چلتا رہا لیکن گھڑی دیکھ کر اندازہ ہوا کہ یہ تقریباً پچیس منٹ کی بات تھی۔

میں نے دوسری کلاسوں میں نہیں جھانکا لیکن جنہوں نے ان میں دیکھا انہوں نے کہا کہ ’بہت افسوسناک تھا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد