BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 September, 2006, 01:04 GMT 06:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشتبہ دہشتگرد کے 5,000 ڈالر‘
 گوانتانامو
گوانتانامو سے تین سوافراد کو بے قصور سمجھتے ہوئے رہا کیا جا چکا ہے
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کے شبہے میں سینکڑوں مشتبہ افراد کو پکڑ کر امریکہ کے ہاتھ پانچ ہزار ڈالر فی کس کے عوض ’فروخت‘ کیا گیا ہے۔


حکومتِ پاکستان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں لگائے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیے گئے افراد پر تشدد کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ نےگوانتانامو میں جن افراد کو اپنی غیر قانونی قید میں رکھا ہوا ہے ان میں پچاسی فیصد وہ ہیں جنہیں افغانستان میں شمالی اتحاد نے اور پاکستان میں اس وقت پکڑا گیا تھا جب ہر مشتبہ دہشتگرد کو امریکہ کے حوالے کرنے کے عوض پانچ ہزار ڈالر تک کے انعامات دیئے جاتے تھے۔

اس صورتحال کا لوگوں کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کرنے والے افراد نے خوب فائدہ اٹھایا اور لوگوں کو غیر قانونی حراست میں دیئے جانے کے کام میں عام مقامی لوگ اور پولیس افسران دونوں شامل رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس قسم کی کارروائیوں کے بارے میں ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ سے پہلے سننے میں نہیں آتا تھا۔ مزید یہ کہ ان حالات میں پاکستانی عدالتیں بھی لوگوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہیں۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار ایک سے اب تک پاکستان میں اجتماعی گرفتاریوں کے کئی واقعات میں سینکڑوں پاکستانی شہریوں اور غیرملکیوں کو پکڑا جا چکا ہے اور محض پکڑنے والے کی گواہی پر انہیں ’دہشتگرد‘ قرار دے کر امریکہ کے ہاتھ ’فروخت‘ کیا جا چکا ہے۔ یوں امریکہ کے حوالے کیئے جانے والے افراد میں سے سینکڑوں کو گوانتانامو کے جزیرے پر، افغانستان میں بگرام ائیر بیس پر یا امریکہ کی خفیہ جیلوں میں منقتل کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پاکستانی سکیورٹی اقدامات کے تحت حراست میں لیے جانے والے افراد میں سے بعض تو گوانتانامو کی جیل میں امریکی حراست میں پائے گئے جبکہ متعدد افراد کا پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کہاں گئے۔

ایمنسٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف حراست میں لیے جانے والے افراد کی ایک مرکزی فہرست تیار کرائیں تاکہ اس طرح کے’غیرقانونی اغوا‘ کو روکا جاسکے۔ پرویز مشرف نے جمعرات کو برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سے ملاقات کی ہے اور آج آکسفورڈ یونین سے ایک خطاب کرنے والے ہیں۔

ایمنسٹی کا مطالبہ
 ایمنسٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف حراست میں لیے جانے والے افراد کی ایک مرکزی فہرست تیار کرائیں تاکہ اس طرح کے’غیرقانونی اغوا‘ کو روکا جاسکے۔ ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت نے حراست میں لیے جانے والے افراد کو امریکی حراست میں فروخت کردیا۔ رپورٹ کے مطابق بعض دیگر افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ متعدد افراد کہاں گئے پتہ ہی نہیں چل پارہا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پاکستانی صدر کا دورۂ برطانیہ تنازعے میں گھرا رہا ہے۔ پہلے انہیں برطانوی وزارت دفاع کے ایک اہلکار کی اس رپورٹ کا سامنا کرنا پڑا جس میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر طالبان اور القاعدہ کی حمایت کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

اور اب ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں دہشت گردی مخالف جنگ میں بغیر کسی عدالتی کارروائی کے سینکڑوں افراد کی گرفتاری کے لیے جنرل پرویز مشرف کی حکومت اور سکیورٹی ایجنسیوں پر تنقید کی گئی ہے۔

ایمنسٹی کی یہ رپورٹ گوانتانامو کی جیل کے سابق قیدیوں اور پاکستان میں لاپتہ ہونے والے افراد کے راشتہ داروں کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔ لاپتہ ہونے والوں میں القاعدہ کے معروف ارکان کے نام بھی شامل ہیں جنہیں پوچھ گچھ کے لیے امریکی حراست میں دے دیا گیا۔

اس رپورٹ میں ایسی خواتین اور بچوں کے نام بھی شامل ہیں جنہیں سکیورٹی ایجنسیوں کی کارروائیوں کے دوران حراست میں لیا گیا اور ان میں سے بعض اب بھی لاپتہ ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ حراستیں جس خفیہ طریقے سے کی جاتی ہیں اس سے یہ بتانا غیرممکن ہے کہ کتنے مزید افراد کو خفیہ مقامات پر رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب جنرل مشرف نے انٹر سروسز انٹیلیجنس یا آئی ایس آئی، جو براہ راست فوج کے سربراہ کو جوابدہ ہوتی ہے، اس کے خلاف الزامات پر مبنی برطانوی رپورٹ کی وضاحت کو قبول کرلیا ہے۔ وزیراعظم بلئیر نےجنرل مشرف سے اس رپورٹ کی وضاحت جمعرات کے روز لندن سے باہر اپنی چیکرز کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران کی۔

برطانوی وزارت دفاع کے لیے ایک سینیئر دفاعی اہلکار کی تحریرکردہ اس رپورٹ میں آئی ایس آئی پر افغانستان میں طالبان کی بلاواسطہ حمایت کرنے اور القاعدہ کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ جنرل مشرف نے اس رپورٹ پر سخت تنقید کی تھی۔

حکومتِ پاکستان کی وضاحت

حکومتِ پاکستان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں لگائے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیے گئے افراد پر تشدد کیا گیا۔

حکومت پاکستان کے ایک ترجمان نے اس الزام کی بھی تردید کی کہ دہشت گردی کے کئی ملزم لاپتہ ہو گئے ہیں۔

تاہم انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ان میں سے کچھ افراد کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر حراست میں رکھا گیا ہے۔

’نیٹ پریکٹس‘
مشرف کا دورہِ کابل: کیا کھویا کیا پایا؟
مشرف’ہمیں اربو ڈالر ملے‘
قیدی امریکہ کے حوالے کرنے پر انعام
جنرل پرویز مشرفڈیل کی تفصیل نہیں
کتاب میں مشرف نواز ڈیل کی تفصیل نہیں ہے
عاطف’بیٹا کہاں ہے؟‘
لاہور کی سروری خاتون بیٹے کے لیے پریشان ہیں
افغان سرحد پر پاکستانی فوجیپاکستان کا طالبان جوا
پاکستان کی افغان سرحد پر نازک پالیسی
اسی بارے میں
کراچی سے بلوچ صحافی لاپتہ
21 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد