’امن مشن پر حملہ المناک بھول‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے اعتراف کیا ہے کہ جولائی میں جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے پوسٹ پر کیا گیا حملہ ایک المناک بھول تھی۔ اس حملے میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے چار اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیل کے ذریعہ کی گئی جانچ میں یہ پایا گیا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ ہوئے جنگ کے دوران فوج کے غلط نقشے کے سبب اس پوسٹ کو نشانہ بنایاگیا۔ اس حملے میں چین، آسٹریا، فین لینڈ اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے امن مشن کے چار اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ حملے کے بعد اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے اسے بظاہر جان بوجھ کر کیا گیا حملہ بتایا تھا۔ جبکہ اس وقت اسرائیلی وزیر اعظم یہود المرٹ نے اس حملے پر شدید افسوس کا اظہار کیا تھا۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ریگیو نے کہا کہ ’ بدقسمتی سے حملے کے دوران اقوام متحدہ کے پوسٹ کی صحیح طریقہ سے پہچان نہی کی جا سکی اور یہ سمجھا گیا کہ اس کا نشانہ حزب اللہ ہے۔
انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس واقعہ کو’المناک بھول‘ قرار دیا۔ ریگیو نے کہا کہ جانچ کے نتیجے کو سبھی چار متعلقہ ممالک کو بھیج دیا گیا ہے۔ ادھر اقوام متحدہ خود بھی اس حملے سے متعلق رپورٹ تیار کر رہی ہے۔ اس وقت اقوام متحدہ اور اسرائیل خطے میں امن قائم کرنے جیسے متعدد حساس موضوعات پر مزاکرات کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں مبصروں کی ہلاکت پر اسرائیلی معذرت 26 July, 2006 | آس پاس مزید لبنانی شہری، اسرائیل کا نشانہ 15 July, 2006 | آس پاس آٹھ اسرائیلی فوجی ہلاک13 July, 2006 | آس پاس لبنان پر مزید اسرائیلی بمباری14 July, 2006 | آس پاس حزب اللہ نے ایسا کیوں کیا؟18 July, 2006 | آس پاس جنگ بندی نہیں ہوگی: اولمرٹ31 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||