BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 July, 2006, 20:19 GMT 01:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران کا ہاتھ ہے، اسرائیل: شام پر شبہہ ہے، امریکہ
زخمی بچی
زخمیوں میں معصوم بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے
لبان میں اسرائیلی بمباری کے ساتویں دن امریکہ اور اسرائیل نے علیحدہ علیحدہ شام اور ایران کو کسی نے کسی طرح موجود بحران سے فائدہ اٹھانے یا اس کا ذمہ دار ہونے کا ملزم ٹھہرایا ہے۔


مشرقِ وسطیٰ پر بات کرتے ہوئے صدر جارج بش نے کہا کہ انہیں شبہہ ہے کہ شام، لبنان کی صورتِ حال سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور لبنان میں موجود کچھ عناصر اسے وہاں دوبارہ داخل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔

جبکہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کے دو فوجیوں کے قیدی بننے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے جو اپنے جوہری پروگرام سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

صدر بش کے بیان میں شام پر شبہے کا اظہار تو ہے لیکن ایران کے بارے میں کسی قسم کا کوئی ذکر نہیں جبکہ ایہود اولمرت نے صرف ایران کا تذکرہ کیا ہے اور شام کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔


اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ گزشتہ ہفتے حزب اللہ کا دو اسرائیلی فوجیوں کو قبضے میں لینا اور آٹھ فوجیوں کا مارا جانا ’ایران کی شہہ پر ہوا ہے۔‘

ایہود اولمرت کا یہ بیان لبنان میں جاری بمباری کے ساتویں دن آیا ہے جب تیس مزید افراد بمباری سے مارے گئے ہیں۔

اسی دوران لبنان میں موجود ہزاروں غیر ملکیوں کو بیروت سے سمندر کے راستے باہر نکالنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

ادھر منگل کو لبنان کے وزیرِ اعظم فواد السنیورہ نے کہا کہ ’اسرائیل ان کے ملک پر پاگل پن اور دوزح کے دروازے کھول رہا ہے‘۔

بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے حزب اللہ سے کہا کہ وہ قبضے میں کیئے گئے دو اسرائیلی فوجیوں کو واپس کر دیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بحران پر اسرائیل کا ردِ عمل غیر متناسب ہے۔

دریں اثناء منگل کو بیروت کے قریب ایک تازہ اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم گیارہ لبنانی فوجی مارے گئے ہیں جبکہ لبنان پر سات دن سے جاری اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد دو سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ لبنانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک لبنانی فوجی بیرک پر کیا گیا اور اس میں کم از کم تیس فوجی زخمی بھی ہوئے۔

اس کے علاوہ
اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں فضائی حملوں کی وجہ سے گھروں کو چھوڑ کر جانے والوں کی مدد کرنے میں مشکلات ہو رہی ہیں۔
لبنان کے سوریا نواز صدر ایمائل لاہود نے کہا ہے کہ وہ حزب اللہ رہنما حسن نصراللہ کے ساتھ ہیں۔
حزب اللہ کے قبضے میں موجود اسرائیلی فوجی کے والد شلومو گولڈویزر نے کہا ہے کہ ان کو امید ہے کہ ان کے بیٹے ایہود کو بچانے کے لیئے سب جائز اور ناجائز طریقے اپنائے جائیں گے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اب تک حزب اللہ اسرائیل پر سات سو زائد راکٹ پھینک چکا ہے۔

حزب اللہ نے بھی اسرائیل کے ساحلی شہر حیفہ پر دوبارہ راکٹ داغے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ راکٹ شہر کی بندرگاہ اور ایک ریلوے ڈپو پر گرے تاہم ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

پیر اور منگل کی درمیانی شب لبنانی سرزمین پر اسرائیلی حملوں میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی طیاروں نے رات بھر جنوبی لبنان پر بمباری جاری رکھی۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد حزب اللہ کی کمر توڑنا ہے لیکن اسرائیلی بمباری اور حملوں کے باوجود حزب اللہ نے اپنے راکٹ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تازہ اسرائیلی حملوں میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں

اسرائیلی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات حزب اللہ کی جانب سے داغے جانے والے پندرہ سے زائد راکٹ ملک کے شمالی حصے میں مختلف مقامات پر گرے جبکہ حزب اللہ نے پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران اسرائیل پر اسّی سے زائد راکٹ پھینکنے کا دعوٰی کیا ہے۔

ان تازہ حملوں میں سوات نامی اسرائیلی قصبے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تاحال حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں بیس سے زائد اسرائیلی مارے جا چکے ہیں۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ خارجہ نے لبنان کے ساتھ جنگ بندی اور جنوبی لبنان میں امن فوج کی تعیناتی کی تجاویز رد کر دی ہیں۔وزیرِخارجہ مسز زپی لِیونی کا کہنا تھا کہ ابھی اس قسم کے اقدامات کا وقت نہیں آیا۔اسرائیلی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ بحران صرف اسی صورت میں حل ہوسکتا ہے اگر لبنانی گروپ حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے اور لبنانی افواج ملک کے جنوبی علاقے کا کنٹرول سنبھالیں۔

حالات میں بہتری کا فوری امکان نظر نہ آنے پر لبنان سے غیر ملکیوں کے انخلاء میں تیزی آ رہی ہے۔ فرانس کا ایک چارٹر بحری جہاز بیروت سے بارہ سو فرانسیسی باشندوں کو لے کر قبرص پہنچا جبکہ چار سو اطالوی شہری ایک اور بحری جہاز کے ذریعےقبرص پہنچے ہیں۔

فرانسیسی بحری جہاز بارہ سو افراد کو لے کر قبرص پہنچا

برطانوی جنگی جہاز بھی بارہ ہزار برطانویوں اور برطانیہ کے شہریت رکھنے والے دس ہزار لبنانی باشندوں کو بیروت سے نکالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ امریکی ہیلی کاپٹروں نے بھی اپنے ملک کے باشندوں کو قبرص پہنچانا شروع کر دیا ہے۔

قبرص پہنچنے والے ایک اطالوی شہری نے رائٹرز کو بتایا کہ’حالات دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں۔ بم اتنے قریب گر رہے تھے کہ ہم آگ اور دھواں تک دیکھ سکتے تھے۔ بچے رو رہے تھے یہ سب کچھ بہت دہشت ناک تھا‘۔

ایک اور شہری کا کہناتھا کہ’ وہاں جہنم کا سا سماں ہے۔ ہم خوش ہیں کہ ہم یہاں خیریت سے پہنچ گئے لیکن ساتھ ہی ہم اداس بھی ہیں‘۔

 ایسا لگتا ہے کہ ہم اب ایسے حالات کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں ہمیں بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو، انسانی مدد اور زندگی بچانے کی کوششیں کرنا ہوں گی۔
ژاں ایگلینڈ

جنوبی لبنان میں موجود بی بی سی کے نمائندے جم میور کا کہنا ہے کہ علاقے کی سڑکیں گاڑیوں سے بھری ہوئی ہیں اور لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر شمالی علاقے کی جانب بھاگ رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ لبنان ایک’انسانی سانحے‘ کے دہانے پر ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعلٰی عہدیدار ژان ایگلینڈ کا کہنا ہے کہ سڑکوں اور پلوں پر حملوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ سب کچھ پہلے ہی بہت خراب ہے اور اب گزرنے والے ہر گھنٹے کے ساتھ صورتحال بگڑ ہی رہی ہے‘۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’ ایسا لگتا ہے کہ ہم اب ایسے حالات کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں ہمیں بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو، انسانی مدد اور زندگی بچانے کی کوششیں کرنا ہوں گی‘۔


حزب اللہاسرائیل کا درد سر
حزب اللہ اور اسرائیل کا ایک تقابلی جائزہ
لبنانکہیں کوئی گھرنہیں
بیروت کے شہری کہیں کوئی گھرنہیں ہے
 لبنانمشرق وسطیٰ کا بحران
مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا کوئی آسان حل نہیں
حزب اللہ کے کارکنحزب اللہ کیا ہے؟
لبنان کی مزاحمتی تحریک اور اس کے مقاصد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد