ش کوریا: سلامتی کونسل تقسیم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریائی میزائلوں پر منقسم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ و جاپان کے اصرار پر ووٹنگ ہونے والی ہے۔ شمالی کوریا اس بارے میں کہہ چکا ہے کہ ’اور اگر عالمی برداری نے پیانگ یانگ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو شمالی کوریا اس کا ’بھر پور عملی جواب‘ دے گا‘۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے مندوب جان بولٹن کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے خلاف اس قرارداد میں اقوام متحدہ کے چیپٹر سات کا کوئی حوالہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کا باب سات ایسے ملک کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت دیتا ہے جس کے خلاف سلامتی کونسل میں قرارداد منظور ہو چکی ہو۔ جان بولٹن کا کہنا ہے کہ ’اس باوجود بھی قرارداد قانونی پابندیاں نافذ کرتی ہے‘۔ جمعہ کو امریکی مندوب کا کا کہنا تھا کہ ’ مجھے واضح ہدایات ہیں کہ اس معاملے پر سنیچر کو ووٹنگ ہونی چاہیئے‘۔ اقوام متحدہ میں جاپان کے مندوب کینزو اوشیما نے امریکی مندوب کے فوراً بعد کہا کہ جاپان بھی شمالی کوریا کے بارے میں قرارداد پر یہی موقف رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے بہت سے مواقع آئے ہیں جو سلامتی کونسل کو انتہائی مشکل معاملات کے بارے میں فیصہ کرنا پڑا ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ بھی ایک ایسا ہی مشکل مسئلہ ہے‘۔ جاپان ایک عرصے سے ایک ایسا ایشیائی ملک ہے جو شمالی کوریا پر انتہائی سخت موقف رکھتا ہے۔ جاپان نے شمالی کوریا کی طرف سے سات میزائل تجربوں کے فوری بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی اور یہ اجلاس جاپان کی اس درخواست پر ہی ہو رہا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے میزائلوں کے تجربے سے اس کی سلامتی کے لیئے خطرہ ہیں۔ تاہم چین، روس اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ تادیبی کارروائی ضروری نہیں ہے اور اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے مندوب وانگ گوانگیا کا کہنا ہے کہ انہیں سلامتی کونسل میں جاپان کی قرارداد کو ویٹو کرنے کی ہدایات ہیں۔ |
اسی بارے میں پھر شمالی کوریا کی مذمت12 May, 2005 | آس پاس بیجنگ: چھ قومی مذاکرات معطل07 August, 2005 | آس پاس ’جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے‘ 19 September, 2005 | آس پاس ’نیوکلیئر شمالی کوریا قبول نہیں‘17 November, 2005 | آس پاس امریکہ کو شمالی کوریا کا انتباہ09 April, 2006 | آس پاس شمالی کوریا کو پھر امریکی تنبیہہ17 June, 2006 | آس پاس میزائل ٹیسٹ: شمالی کوریا پر دباؤ20 June, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||