 |  زابل میں افغان امریکی افوج کئی ہفتوں سے آپریشن کر رہے ہیں |
جنوب مشرقی افغان صوبے زابل کے پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ پانچ پاکستانیوں کو گرفتار کر کے امریکیوں کے حوالے کیا گیا ہے۔ ضلع شہرِ صفا پولیس سربراہ غلام رسول کا کہنا ہے کہ ان پاکستانیوں کو بدھ کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے لیے انہیں اتحادی افواج نے اطلاع دی تھی کہ پانچ پاکستانی ایک مسافر گاڑی میں قندھار کابل شاہراہ پر سفر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں کوئٹہ سے ملا طاہر نے افغانستان میں جہاد کے لیے بھیجا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان پانچ افراد میں چار اردو بولتے ہیں جب کے پانچواں کوئی ایسی زبان بولتا ہے جو ان کے لیے ناقابلِ فہم ہے۔ پولیس سربراہ کے مطابق ان نوجوانوں کی عمریں پندرہ سے سترہ سال کے درمیان ہیں اور ان کے نام عبید اللہ، شفیق احمد، عبدالرحمٰن، منیر احمد اور شعیب احمد ہیں۔ نا کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ملا طاہر نے افغانستان میں جہاد کرنے کے لیے تین ہزار روپے فی کس دیے تھے۔ پولیس سربراہ نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ وہ کابل شہر جانا چاہتے تھے جہاں بے چینی کی اطلاعات ہیں لیکن جب انہوں کڑی سکیورٹی دیکھی تو افغانستان سے واپس جانے کا فیصلے کر لیا اور انہیں واپس جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ |