انڈونیشیا کے قریب بحرِ ہند میں آنے والے شدید زلزلے سے کچھ عرصے قبل آنے والے سونامی کی سی تباہی کا خطرہ تو ٹل گیا ہے لیکن انڈونیشیائی جزیرے نیاس میں ہلاکتیں ایک سے دو ہزار کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ انڈونیشیا کے جزیرہ سماٹرا زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جس سے سونامی کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا اور پورے خطے میں پہلی بار حال ہی تیار کیے جانے والے سونامی کے انتباہی نظام کو بھی استعمال کیا گیا۔ ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 7ء8 ریکارڈ کی گئی لیکن زلزلہ آنے کے کئی گھنٹے گزرنے کے بعد ماہرین نے اعلان کیا ہے ہے سونامی کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ بھارت میں بھی خطرے کے انتباہ کو واپس لے لیا گیا ہے اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ اب وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکتے ہیں۔ بھارت میں ڈائریکٹر برائے ڈیزاسٹر منیجنٹ گروپ ایس کے سوامی نے کہا ہے کہ سونامی کے خطرے کا انباہ واپس لے لیا گیا ۔ لوگ اپنے گھروں کو واپس جا سکتے ہیں لیکن انتظامیہ کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے چوکس رہے گی۔ اس دوران انڈونیشیا کے نائب صدر محمد یوسف کاللہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جزیرہ نیاس میں جو زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ، ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سے دو ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔ جزیرے نیاس سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کئی عمارتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور کئی لوگ ان عمارتوں کے ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ امریکی جیالوجکل سروے کے ترجمان کے مطابق دسمبر 2004 میں آنے والے تاریخ کے بدترین سونامی کے بعد بحر ہند میں آنے والا یہ سب سے شدید زلزلہ ہے۔ یہ زلزلہ اس جگہ کے قریب ہی آیا ہے جہاں گزشتہ دسمبر کی چھبیس تاریخ کو زلزلہ آیا تھا اور جس کی وجہ سے بحر ہند میں سونامی طوفان سے تین لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک یا لاپتہ ہو گئے تھے۔ |