BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 February, 2005, 13:39 GMT 18:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حسنی مبارک: دور اقتدار کے اتار چڑھاؤ
حسنی مبارک
اپنے دور اقتدار کے دوران حسنی مبارک پر چھ مرتبہ قاتلانہ حملے کیے گئے ہیں
گزشتہ چوبیس سال سے مصر کےصدر کے عہدے پر فائز حسنی مبارک ملک کے سابق پائیلٹ اور ایئر فورس کے کمانڈر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے سالہا سال کے عرصے میں ایسی ساکھ قائم کی ہے کہ وہ صحت کے لحاظ سے فٹ ہیں اور ایک صحتمندانہ روٹین کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

حسنی مبارک قاہرہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں مینوفیا میں 1928 میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اپنی نجی زندگی کی مصروفیات کو عوامی زندگی سے دور رکھنا پسند کرتے ہیں۔

ان کی نصف برطانوی نژاد اہلیہ سوزین مبارک نے قاہرہ میں امریکن یونیورسٹی سے گریجویشن کیا ہے۔ ان کے دو بیٹے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی روزمرہ زندگی میں حسنی مبارک ایک سخت روٹین کے عادی ہیں اور ان کے دن کا آغاز صبح چھ بجے ہوتا ہے۔

ان سے پہلے 1981 میں مصر کے صدر انور سادات کو شدت پسندوں نے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔ اس وقت مبارک ملک کے نائب صدر تھے، وہ اس حملے سے بمشکل بچ پائے کیونکہ اس واقعے کے وقت وہ فوجی پیریڈ کے دوران مصری صدر انور سادات کے پیچھے تھے۔ انور سادات کی ہلاکت کے بعد حسنی مبارک نے 1981 ہی میں اقتدار سنبھال لیا تھا۔

اپنے دور اقتدار کے دوران حسنی مبارک پر چھ مرتبہ قاتلانہ حملے کیے گئے ہیں۔

ان پر سب سے خطرناک حملہ 1995 میں ایتھوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا بابا سے واپسی پر کیا گیا تھا جہاں وہ ایک افریقی اجلاس میں شرکت کے لیے گئے تھے۔

صدر کے قریبی ساتھی ان کے شیڈول کے بارے میں اکثر شکایت کرتے ہیں جس کا آغاز جم میں ورزش یا پھر سکواش کے گیم سے ہوتا ہے۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد حسنی مبارک نے اپنا نائب صدر مقرر کرنے سے انکار کردیا تھا۔

اطلاعات ہیں کہ حالیہ چند سالوں سے صدر مبارک اپنے بیٹے گمال کو صدارتی عہدے کے لیے تیار کررہے ہیں۔

چالیس سالہ گمال نے امریکن یونیورسٹی سے گریجویشن کیا ہے۔ انہیں حال ہی میں حزب اقتدار میں بڑے عہدے پر فائز کیا گیا ہے اور وہ بیرون ممالک کے تمام دوروں پر اپنے والد کے ہمراہ ہوتے ہیں۔

اگرچہ صدر اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ ان کا بیٹا ان کے بعد اقتدار سنبھالے گا تاہم تجزیہ کار اس بارے میں شک کا اظہار کررہے ہیں۔

چند کا یہ بھی خیال ہے کہ حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی ملک افراتفری کا شکار ہوجائے گا۔

صدر حسنی مبارک نے اپنے عہدے پر قائم رہنے کے لیے چار مرتبہ ریفرنڈم کرائے ہیں اور ہر مرتبہ وہ 96 فیصد اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتیں ملکی نظام تبدیل کرنے پر زور دے رہی ہیں تاہم اب تک صدر اس مطالبے کو رد کرتے رہے ہیں۔

اورلی اور آمنیہ کا پانچواں خطخون کا حساب
اورلی اور آمنیہ کا پانچواں خط
’باعصمت ہونا` اب بھی اہم سمجھا جاتا ہےمصر: عبیر سعدی
’باعصمت ہونا` اب بھی اہم سمجھا جاتا ہے
طوطن خامنفرعون کیسے مرا؟
طوطن خامن کی حنوط شدہ لاش کا دوبارہ تجزیہ
بارودی سرنگصحرا میں موت
’ٹانگ بازو اُُڑ جاتے ہیں، بچّے مرجاتے ہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد