بھارت میں کنہیار کمار کی گرفتاری کے خلاف احتجاج جاری

بدھ کو عدالت نے کنہیار کمار کو دو ہفتے کے لیے جیل بھیج دیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبدھ کو عدالت نے کنہیار کمار کو دو ہفتے کے لیے جیل بھیج دیا

بھارت کے دارالحکومت دہلی کی مشہور جواہر لال نہرو یونیورسٹی طالب علم رہنما کنہیار کمار پر ’غداری‘ کے مقدمے کے خلاف احتجاج جاری ہے جبکہ سپریم کورٹ ان کی ضمانت کے بارے میں دائر کردہ درخواست پر جمعے کو سماعت کرے گی۔

بھارت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ضمانت کی درخواست اینیدیتا پجاری کی جانب سے دائر کی گئی اور اس پر سماعت جمعے کو ہو گی۔

کنہیا کمار کو دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی (جے این یو) کو سنہ 2013 میں محمد افضل گرو کو دی جانے والی پھانسی کے خلاف ایک ریلی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا جس میں میں مبینہ طور پر بھارت مخالف نعرے بازی کی گئی تھی۔

حکمراں جماعت بے جے پی کے کارکن کنہیار کمار کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحکمراں جماعت بے جے پی کے کارکن کنہیار کمار کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سپریم کورٹ نے بدھ کو کنہیار کمار کی عدالت میں پیشی کے موقعے پر امن و امان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے بدھ کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ مانگی ہے جبکہ دہلی پولیس کے اعلیٰ اہلکار بی ایس باسی کو براہ راست کنیہار کمار کی سلامتی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

بدھ کو وکلا کے ایک گروپ نے کنہیار کمار پر اس وقت تشدد کیا جب ان کو ’غداری‘ کے مقدمے میں عدالت میں پیش کیا جا رہا تھا۔

اطلاعات کے مطابق کنہیا کمار کو وکلا نے تشدد کا نشانہ بنایا اور نعرے بازی کی۔

دوسری جانب جمعرات کو دہلی میں کنہیار کمار کے حق میں ایک جلوس نکالا جا رہا ہے اور توقع کی ہے کہ اس میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے۔

دہلی کے علاوہ ملک بھر میں دیگر جامعات میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔

جمعرات کو چینئی میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران طالب علموں کا پولیس سے تصادم ہوا ہے، جبکہ کولکتہ کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں بھی احتجاجی مظاہرہ پرتشدد رخ اختیار کر گیا۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں حکمراں بھارتیہ جتنا پارٹی سے منسلک سٹوڈنٹ ونگ کے تین عہدیدار مستعفیٰ ہو گئے ہیں۔

ان عہدیداروں کے مطابق انھیں اس مسئلے سے نمٹنے کی حکمت عملی پر مایوسی ہوئی ہے۔

حکومتی وزرا نے کہا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ملک دشمن عناصر کو سزا دینے کے موقف پر قائم ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحکومتی وزرا نے کہا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ملک دشمن عناصر کو سزا دینے کے موقف پر قائم ہیں

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی کنہیار کمار کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی کی قوم پرست حکومت برطانوی دور کے ’غداری‘ کے قانون کو ان لوگوں کو خاموش اور ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو مختلف رائے رکھتے ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے حکمراں جماعت بی جے پی کو کانگریس کی پشت پناہی کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ جماعت کے نائب صدر راہل گاندھی نے بھارتی صدر پرنب مکھرجی سے ملاقات کر کے صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انھوں نے کہا کہ عدالت میں پیش آنے والے مناظر ملک کے جمہوری تصورات کے منافی ہیں۔

تاہم حکومتی وزرا نے کہا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ملک دشمن عناصر کو سزا دینے کے موقف پر قائم ہیں۔