طالب علم رہنما پر ’غداری‘ کا مقدمہ، عدالت میں تشدد

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کی ایک عدالت میں تشدد کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جہاں ملک کی ایک صف اول کی یونیورسٹی کے ایک طالب علم رہنما کو ’غداری‘ کے مقدمے میں پیش کیا گیا تھا۔
کنہیا کمار کو دہلی کی جواہر لعل یونیورسٹی (جے این یو) کو سنہ 2013 میں محمد افضل گرو کو دی جانے والی پھانسی کے خلاف ایک ریلی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا جس میں میں مبینہ طور پر بھارت مخالف نعرے بازی کی گئی تھی۔
اس کارروائی پر ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران یونیورسٹی میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔
افضل گرو کو سنہ 2001 میں بھارتی پارلیمان پر ہونے والے حملے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
افضل گرو نے حملے کی منصوبہ بندی کی تردید کی تھی۔ خیال رہے کہ کشمیری عسکریت پسندوں کی جانب سے کیے گئے اس حملے میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خود کو وکیل ظاہر کرنے والے ایک شخص نے جے این یو کے طالب علموں پر حملہ کیا جو کنہیا کمار کے ساتھ حمایت کے اظہار کے لیے عدالت آئے تھے۔
مبینہ طور پر کچھ صحافی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
کنہیا کمار کو ’غداری‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد اساتذہ، یونیورسٹی کے طلبہ اور میڈیا کے کچھ اداروں کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ ان کے خیال میں یہ ردعمل حد سے زیادہ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یونیورسٹی میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا جبکہ دیگر 40 یونیورسٹیوں نے بھی طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔
ایک بھارتی اخبار میں شائع ہونے والے کام میں کہا گیا کہ ’جے این یو کے طالب علم بھارت کے لیے اتنا خطرہ نہیں ہیں جتنا حکومت کی جانب سے آزادی کی سلبی۔‘ جبکہ ایک اور ویب سائٹ نے اس جانب اشارہ کیا کہ اس صورت حال میں غداری کا الزام غلط تھا کیونکہ ’بیان کو صرف اس صورت میں جرم قرار دیا جاسکتا ہے جہاں یہ ہجوم کو پرتشدد کارروائی کی جانب مائل کرے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی احتجاج میں حصہ لیا اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کی مذمت کی۔
تاہم حکومت کے ناراض وزرا پیچھے نہیں ہٹے اور انھوں نے ’ملک مخالف عناصر‘ کو سزا دینے کا عندیہ دیا۔
وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے ٹویٹ کیا کہ وہ ملک کے خلاف نعرے لگانے والوں کو ’نہیں چھوڑیں گے۔‘ بعد میں ان کا کہنا تھا کہ طالب علموں لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کی حمایت حاصل ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے اس وقت یہ ٹویٹ حذف کر دیا جب یہ بات سامنے آئی کہ ان کا یہ بیان دراصل ایک پیروڈی اکاؤنٹ کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔
راج ناتھ سنگھ نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا: ’جو بھارت مخالف سرگرمیوں یا پراپیگنڈا میں شامل ہیں انھیں چھوڑا نہیں جائے گا اور جو بےگناہ ہیں انھیں ہراساں نہیں کیا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
سوشل میڈیا پر بیشتر تبصرے طالب علموں کے خلاف تھے، اور بھارت میں سب سے اوپر ٹرینڈ کرنے والا ہیش ٹیگ ’کلین اب جے این یو‘ رہا تھا۔
ہفتہ وار چھٹیوں کی یونیورسٹی کے طالب علموں کی بڑی تعداد احتجاج کے لیے آئی۔
کنہیا کمار اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں اور وہ اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
انھوں نے بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کو بتایا: ’میرا تقریب میں لگائے گئے نعروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرا اس ملک کے آئین پر مکمل اعتقاد ہے۔‘







