’جواہرلال نہرو یونیورسٹی ملک مخالف قوتوں کا اڈا ہے‘

بھارت میں سخت گیر ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ترجمان ہفت روزہ میں دہلی کی معروف جواہر لال نہرو یونیورسٹی کو ’ملک مخالف طاقتوں کا اڈا‘ بتایا گیا ہے۔
ہفت روزہ ’پانچ جنیہ‘ کی سرورق سٹوری کے مطابق جے این یو میں وقتاً فوقتاً ’ملک مخالف سرگرمیاں‘ منعقد ہوتی رہتی ہیں۔
جے این یو سٹوڈنٹس یونین نے اس پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’انتہائي رجعت پسندانہ‘ قرار دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں یونین نے کہا: ’ہم جے این کے خلاف آر ایس ایس کے انتہائي رجعت پسندانہ بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب (جے این یو) کے طلبہ حکومت کے ۔۔۔ فیلوشپ ختم کرنے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ جے این یو کیمپس کا کلچر آر ایس ایس کے بھارت کے ہندو قوم پرست نظریے کے خلاف ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPTI
بھارت کی کمیونسٹ پارٹی سی پی آئی ایم نے آر ایس ایس کی ’بے تکی، مضحکہ خیز اور ہتک آمیز زبان کے استعمال‘ کے لیے تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ جے این یو کو ملک اور بیرون ملک وقعت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
آر ایس ایس کے نظریہ کا فروغ کرنے والے ہفتہ روزہ پانچ جنیہ میں شائع مضمون کے مطابق ’سنہ 2010 میں جب چھتیس گڑھ میں نکسلیوں کے ہاتھوں 70 سے زیادہ بھارتی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو ئے تھے تب (جواہر لال) یونیورسٹی میں جشن منایا گیا تھا۔‘
ایک دوسرے مضمون میں جے این یو پر الزام لگایا گیا ہے کہ ’وہاں قوم پرستی کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ ہندوستانی ثقافت کو بھونڈے انداز میں پیش کرنا عام بات ہے۔ وہاں کشمیر سے فوج کے ہٹائے جانے کی حمایت ہوتی ہے۔ وہاں مختلف قسم کی دوسری ملک مخالف سرگرمیاں ہوتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہjnu.in
ان مضامین پر سوشل میڈیا میں بھی زبردست رد عمل آیا ہے اور بحث زوروں پر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
mishra_pravin@ نے لکھا ہے کہ ’جو بھی سنگھ (آر ایس ایس اور اس جیسی ہندو قوم پرست جماعتوں) کے نظریات سے متفق نہیں ہے ان کے مطابق وہ غدار ہو جاتا ہے۔‘
raishiv2001@ نے لکھا: ’آر ایس ایس خود ہی نفرت کی سیاست کر کے ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہتی ہے۔‘
shivanagpur@ نے لکھا: ’اخبار کا گھٹیا بیان۔ جے این یو ملک کی بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔‘

اس کے برعکس کئی لوگوں نے اخبار کے اس مضمون سے اتفاق بھی کیا ہے۔snaatn@ لکھتے ہیں: ’سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے اور یہ بھی ایک ایسا ہی سچ ہے۔‘
bemelmesre@ نے لکھا: ’ایک باغی یا غیر مطمئن ادارہ ہونے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے لیکن حکومت کے پیسوں پر آپ ایسا نہیں کر سکتے۔‘
ہفتہ روزہ میں شائع مضمون میں بھی حکومت کے پیسوں پر جے این کی سرگرمیوں کی تنقید کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ جے این یو کا قیام سنہ 1969 میں پارلیمان کے ایک ایکٹ کے تحت عمل میں آیا تھا۔







