بیف والے کھانے فراہم کرنے پر کیرالہ ہاؤس کی شکایت

بھارتی ریاست کیرالہ میں گائے کو ذبح کرنے پر پابندی نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبھارتی ریاست کیرالہ میں گائے کو ذبح کرنے پر پابندی نہیں ہے

بھارت میں دائیں بازو کے ہندو جماعت نے جنوبی ریاست کیرالہ کے گیسٹ ہاؤس کے کھانوں کی فہرست میں بیف کے ڈشز کی اطلاع دہلی کے پولیس سٹیشن میں درج کروائی ہے۔

سٹاف نے پولیس کو بتایا کہ اُن کے کھانوں کی فہرست میں گائے کا نہیں بلکہ بھینس کا گوشت شامل ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کیرالہ ہاؤس میں ’احتیاطی تدابیر‘ کے طور پر گئے تھے، نہ کہ شکایت کی تحقیقات یا گوشت کے نمونے لینے۔

کیرالہ کے حکومت نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی شکایت کی ہے۔کیرالہ بھارت کی اُن ریاستوں میں شامل ہے جہاں گائے ذبح کرنے کی اجازت ہے۔

لیکن زیادہ تر ریاستوں میں جس میں دہلی بھی شامل ہے، گائے کو ذبح کرنے پر پابندی ہے۔ بھارت کی اکثریت ہندو برادری میں گائے کو مقدس جانور سمجھا جاتا ہے۔

واقعے کے بعد پیر کی شام کو پولیس نے مزید تحقیقات کے لیے فون کرنے والے شخص کو حراست میں لیا۔ اس شخص کا تعلق ہندو سینا گروپ سے ہے۔

سینیئر پولیس افسر جتن ناروال نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ’ہم نے اِس معاملے میں ضروری تیزی دکھائی اور اپنی پوزیشن لی۔اِس کا مقصد اِس بات کو یقینی بنانا تھا کہ قانون کی عملداری کہیں متاثر تو نہیں ہو رہی۔‘

 کیرالہ ہاؤس نے اپنے کھانوں کے فہرست میں سے بیف کی تمام ڈشز ِختم کر دی ہیں

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشن کیرالہ ہاؤس نے اپنے کھانوں کے فہرست میں سے بیف کی تمام ڈشز ِختم کر دی ہیں

تاہم کیرالہ کے وزیر اعلیٰ اُومان چانڈی نے کیرالہ ہاؤس میں پولیس کے آنے کی شدید مذمت کی ہے۔

چانڈی نے بھارت کے نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دہلی پولیس کو اپنی حد میں رہنا چاہیے تھا اور بیف کے ڈشز کی جانچ کے لیے آنے سے قبل حکام سے رابطہ کرنا چاہیے تھا۔‘

کیرالہ ہاؤس نے اپنے کھانوں کے فہرست میں سے بیف کی تمام ڈشز ِختم کر دی ہیں اور میڈیا اطلاعات کے مطابق ملازمین نے پولیس سے حفاظت کی درخواست کی ہے۔

حلق میں پھنس گیا

بھارت کے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر اِس واقعے کے حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔

روزنانہ ٹیلی گراف نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ’کیرالہ کی مشہور بیف کری ایک پریشان کرنے والی ہڈی ہے جو سنگھ خاندان (شدت پسند ہندو گروپ) کے حلق میں پھنس گئی ہے کیونکہ خاص طور پر ریاست کے کئی ہندو اِس ڈش کے خوب مزے اُڑاتے ہیں۔‘

بی جے پی کی سابقہ حکومت میں وزیر رہنے والے آرون شورے نے بھی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گائے کی دیکھ بھال کے علاوہ اِس کی پالیسیاں کانگریس کی سابق حکومت کے ہہو بہو ہیں۔

’عوام نے منموہن سنگھ (سابق وزیراعظم) کے دور کو یاد کرنا شروع کردیا ہے۔

اُنھوں نے دہلی میں ایک تقریب میں کہا ہے کہ ’حکومت کی پالسیاں بیان کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کانگریس جمع گائے کہا جائے کیونکہ پالیسیاں ایک جیسی ہیں۔‘

’کیرالہ ہاؤس‘ بھارت کے ٹاپ ٹرینڈز میں سے ایک ہے۔ بہت سارے لوگ حکومت پر تنقید کررہے ہیں اور اِس کے ساتھ ساتھ پولیس کے عمل کو حذباتی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا میں گائے کے گوشت پر پابندی کے حوالے سے خوب بحث ہو رہی ہے
،تصویر کا کیپشنبھارتی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا میں گائے کے گوشت پر پابندی کے حوالے سے خوب بحث ہو رہی ہے

شمالی بھارت میں 50 سالہ مسلمان شخص کی گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں ہلاکت کے بعد گوشت کھانا موضوعِ بحث ہے۔

بی جے پی سے تعلق رکھنے والے حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ واقعہ ’غصے کا اچانک اظہار‘ تھا، جبکہ شمالی ریاست ہریانہ کے وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ بھارت میں گائے ’ایمان کا حصہ ہے۔‘

بیف پر پابندی سے غم و غصہ پھیل گیا، کئی افراد سوال کررہے ہیں کہ کیا یہ حکومت کا اختیار ہے کہ وہ طے کرے کہ اُن کی پلیٹ میں کیا ہوگا؟۔

عوام کی بڑی تعداد اِس پر تنقید کررہی ہے کہ بیف مرغی اور مچھلی سے سستا ہے اور یہ مسلمانوں، قبائلیوں اور دلت (سابقہ اچھوت) برادریوں کے لیے ضروری ہے۔