’ویدوں میں صاف لکھا ہے گائے مارنے والے پاپی کو قتل کرنا گناہ نہیں‘

پنچ جنیہ اخبار آر ایس ایس کے نظریات اور خیالات کی ترجمانی کرتا ہے لیکن تنظیم دعویٰ کرتی ہے کہ یہ اس کا اخبار نہیں ہے
،تصویر کا کیپشنپنچ جنیہ اخبار آر ایس ایس کے نظریات اور خیالات کی ترجمانی کرتا ہے لیکن تنظیم دعویٰ کرتی ہے کہ یہ اس کا اخبار نہیں ہے

بھارت میں سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس کے ترجمان اخبار ’پنچ جنیہ‘ کے بانیوں میں سے ایک طفیل چتریودی کا کہنا ہے کہ دارالحکومت دہلی سے متصل دادری میں گائے کےگوشت کی افواہ پر محمد اخلاق کا قتل ایک ’فعل کا رد عمل‘ ہے۔

طفیل چترویدی نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا: ’ویدوں میں صاف صاف لکھا ہے کہ گائے مارنے والے پاپی کو قتل کرنا کوئی گناہ نہیں ہے۔‘

تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کس وید میں اور کہاں پر لکھا ہے۔ ہندوؤں کے مختلف ادوار پر مشتمل چار وید ہیں۔

بھارتی دارالحکومت دہلی سے متصل دادری کے بساہڑا گاؤں میں گائے کا گوشت کھانے کے افواہ پر ستمبر کے آخری ہفتے میں محمد اخلاق نامی ایک شخص کو مشتعل ہجوم نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔

اخلاق کے گھر میں فرج میں رکھےگوشت کو گائے کا گوشت کہا گیا تاہم بعد میں فورینسک جانچ کی رپورٹ سے پتہ چلا کہ دراصل وہ بکرے کا گوشت تھا۔

آر ایس ایس کے مطابق مدرسے اور بھارتی مسلم قیادت بھارت کے مسلمانوں کو اپنی ہر روایت سے نفرت کرانا سکھاتی ہے

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنآر ایس ایس کے مطابق مدرسے اور بھارتی مسلم قیادت بھارت کے مسلمانوں کو اپنی ہر روایت سے نفرت کرانا سکھاتی ہے

لیکن طفیل چترویدی اس سرکاری رپورٹ کو غلط قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ‎’یہ یقینی طور پر غلط ہے اور یہ حکومت کا کام ہے۔‘

انھوں نے مذکورہ اخبار میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے: ’مدرسے اور بھارتی مسلم قیادت بھارت کے مسلمانوں کو ہندوؤں کی ہر روایت سے نفرت کرانا سکھاتی ہے۔ انہی کرتوتوں کے نتیجے میں شاید اخلاق گائے کی قربانی کر بیٹھا۔‘

ہزاروں برس پہلے لکھے گئے ویدوں میں تحریر باتیں آج کے دور سے کتنی تعلق رکھتی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں ’یہاں ویدوں کا قانون نہیں چلتا، اس معنی میں ان کا تعلق نہیں ہے۔ لیکن ویدوں کا قانون کبھی نہیں چلا ہے۔‘

ان کے مطابق: ’معاشرے میں قاعدے قانون ویدوں کے مطابق نہیں بلکہ یادوں کی بنیاد پر چلتے چلے آئے ہیں۔‘

پنچ جنیہ اخبار کے ایک ادرایے میں دادری کے واقعے اور ملک میں تیزی سی پھیلتی منافرت کے خلاف ایوارڈ واپس کرنے والے سرکردہ ادیبوں کو ’خود ساختہ عقل کے ٹھیکیدار اور ‎سیکیولر بیماری میں مبتلا‘ افراد بتایا گیا ہے۔