’بی جے پی اپنے ہی تیار پھندے میں پھنسی‘

سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے طرز پر سیاست کھیلنے کی ایسی مثال کسی بھی وزیر اعظم نے پہلی بار پیش کی ہے

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنسخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے طرز پر سیاست کھیلنے کی ایسی مثال کسی بھی وزیر اعظم نے پہلی بار پیش کی ہے

چونکہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ثقافتی قوم پرستی کو پروان چڑھانے کا دعویٰ کرتی ہے اس لیے اگر اس کی سیاست کو ثقافتی طور پر بیان کیا جائے تو اس کے کسی پیرو کار کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت یہ حکمران جماعت جس اپنے ہی تیار کیے گئے پھندے میں پھنسی ہوئی ہے، وہ اس کی ثقافتی قوم پرست سیاست ہی کی دین ہے۔

سی ایس ڈی ایس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ابی کمار دوبے کے مطابق گائے کا دفاع اس پارٹی کی ثقافتی قوم پرستی کی اہم بنیاد ہے۔ لیکن وہ اپنے اس بنیادی عقیدے کو پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ کرنے کے بجائے صرف انہی ریاستوں میں آزما رہی ہے جہاں دوسری جماعتوں کی حکومت ہے، اپنی ریاستوں میں نہیں۔

گائے کے ذبیحہ کی افواہ پر ہجوم کی جانب سے پرتشدد واقعات یا تو ریاست اتر پردیش میں ہوئے ہیں یا ہماچل پردیش میں، جبکہ ریاست گوا میں بی جے پی کے وزیراعلیٰ باقاعدہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ گائے کے گوشت کھانے پر پابندی نہیں لگائیں گے، کیونکہ ان کی ریاست کی آبادی کا بیشتر حصہ یہ گوشت کھاتا ہے۔

چونکہ بی جے پی اس موضوع میں صاف گوئی سے کام نہیں لیتی اس لیے اس کی یہ سیاسی شعبدہ بازی چھپی نہیں رہ پاتی ہے۔

اگر بی جے پی اور اس کی حامی تنظیموں، جیسے بجرنگ دل، گاؤ ركشا دل اور ہندو جاگرن منچ، نے اپنے قدم واپس نہیں کھینچے تو یہ ثقافتی سیاست انہیں بہت مہنگي پڑنے والی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناگر بی جے پی اور اس کی حامی تنظیموں، جیسے بجرنگ دل، گاؤ ركشا دل اور ہندو جاگرن منچ، نے اپنے قدم واپس نہیں کھینچے تو یہ ثقافتی سیاست انہیں بہت مہنگي پڑنے والی ہے

بی جے پی شمال مشرقی ریاستوں میں بھی گائے کےگوشت پر کچھ نہیں بولتی۔ اسی سیاسی چالاکی کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نے بھی ان واقعات کے غیر بی جے پی ریاستوں تک محدود رہنے کا فائدہ اٹھایا۔

پہلے تو وہ دادری کے دردناک واقعے پر خاموش رہے اور جب ان کی حکومت پر دباؤ پڑا تو انھوں نے اس واقعے کی مذمت تو نہیں کی لیکن مرکزی حکومت کو ان واقعات سے الگ کر کے ذمہ داری لینے سے بھی انکار کر دیا۔

سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے طرز پر سیاست کھیلنے کی ایسی مثال کسی بھی وزیر اعظم نے پہلی بار پیش کی ہے۔ اگر واقعی وزیر اعظم کو دادری کا واقعہ افسوسناک لگتا تو وزارت داخلہ کے ذریعے ریاستی حکومت سے اس کی تفصيل پوچھنا اور اس پر زیادہ موثر کارروائی کرنے کا دباؤ ڈالنا ان کا پورا حق ہے۔ ویسے بھی وہ اتر پردیش سے ہی رکن پارلیمان ہیں۔

اس ثقافتی پھندے کا جواب خاص طور ملک کے ادیبوں نے دیا ہے۔ بھارت کی تاریخ میں مختلف زبانوں کے معروف ادیبوں نے اتنی بڑی تعداد میں پہلی بار مزاحمت کے طور پر ایوارڈز واپس کر کے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔

اس پر بحث کی جا سکتی ہے کہ انہیں ایسا کرنا چاہیے تھا یا نہیں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی مزاحمت انتہائی موثر ثابت ہوئی۔ حکومت ہلی ہوئی لگ رہی ہے اور بی جے پی کے ترجمان ہر پلیٹ فارم پر اپنا دفاع کرتے گھوم رہے ہیں۔

گائے کے ذبیحے کی افواہ پر پر ہجوم کی جانب سے تشدد کے واقعات یا تو ریاست اتر پردیش میں ہوئے ہیں یا ہماچل پردیش میں، بی جے پی کی ریاستوں میں ایسا نہیں ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنگائے کے ذبیحے کی افواہ پر پر ہجوم کی جانب سے تشدد کے واقعات یا تو ریاست اتر پردیش میں ہوئے ہیں یا ہماچل پردیش میں، بی جے پی کی ریاستوں میں ایسا نہیں ہوا ہے

مشکل یہ ہے کہ ان کے پاس اس ثقافتی حملے کا جواب دینے کے لیے نہ تو ثقافتی زبان ہے اور نہ ہی دلائل کا ثقافتی فریم ورک ہے۔ وہ ادیبوں کے مقابلے سیاسی زبان بول کر کام چلا لینا چاہتے ہیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ادیبوں کے کہنے پر بی جے پی کی مخالفت میں کوئی ووٹ دینے نہیں جا رہا ہے۔ لیکن اکیڈمی ایوارڈز کی واپسی کی تقریب عالمی سطح کی ثقافتی دنیا میں گونج سکتی ہے۔

ادیبوں اور فنکاروں کا اپنا ایک نیٹ ورک ہے۔ ویسے بھی ایوارڈ واپس کرنے والے تمام ادیب بائیں بازو کے نہیں ہیں۔ اس میں مارکسزم کے اثرات سے لڑنے والے ادیب بھی شامل ہیں۔

ایسے ادیبوں کے لیے سلمان رشدی کی حمایت سے اور بھی فرق پڑنے والا ہے۔ رشدی نے یہ بھی کہا ہے کہ ویسے تو وزیر اعظم بڑے باتونی ہیں، لیکن ایسے مسائل پر ان کی خاموشی غندہ گردی کو فروغ دے رہی ہے۔

بی جے پی کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مودی کے اقتصادی پالیسی کی حمایت کرنے والے مبصرین نے بھی گوشت پر ہونے والی سیاست پر تشویش ظاہر کی ہے۔

اگر بی جے پی اور اس کی حامی تنظیموں، جیسے بجرنگ دل، گاؤ ركشا دل اور ہندو جاگرن منچ، نے اپنے قدم واپس نہیں کھینچے تو یہ ثقافتی سیاست انھیں بہت مہنگی پڑنے والی ہے۔