گائے صرف بہانہ ہے، اصل نشانہ تو مسلمان ہیں

ملک میں گوشت کھانے والے مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کی مجموعی آبادی سے دو گنی سے بھی زیادہ ہندو آبادی گوشت خورہے، ہندوؤں کےبعض طبقے گائے کا گوشت بھی شوق سے کھاتے ہیں
،تصویر کا کیپشنملک میں گوشت کھانے والے مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کی مجموعی آبادی سے دو گنی سے بھی زیادہ ہندو آبادی گوشت خورہے، ہندوؤں کےبعض طبقے گائے کا گوشت بھی شوق سے کھاتے ہیں
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

ریاست ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے جب یہ بیان دیا کہ مسلمانوں کو اگر بھارت میں رہنا ہے تو انہیں گائے کا گوشت چھوڑنا ہو گا اور انہیں ہندو مذہب کے رسم و رواج کا پورا احترام کرنا پڑے گا تو بی جے پی اوراس کی ہندو نظریاتی تنظیم بی جے پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کو کوئی حیرت نہیں ہو ئی۔

دادری میں ایک مسلمان خاندان پر منظم حملے کے بعد اتر پردیش کے ہی مین پوری ضلع میں چار مسلمانوں کو بالکل آخری لمحات میں پولیس نے ایک ہجوم کے حملے سے بچا لیا۔ یہ مسلمان ایک مردہ گائے کی کھال نکال رہے تھے۔ گائے کے ہندو مالک نے انہیں بلایا تھا۔ لیکن افواہ یہ پھیلائی گئی کہ مسلمانوں نے گائے ذبح کی ہے۔ افواہ پھیلانے والوں میں دو مقامی سرکاری اہلکار بھی شامل تھے۔

کل ہماچل پردیش میں ایک مسلم نوجوان کو ایک ہجوم نے ایک ٹرک میں گائے لے جانےکی پاداش میں مار مار کر ہلاک کردیا۔ بھارت کے قومی اخباروں نے مقتول کو ’گائے کا سمگلر‘بتایا ہے۔ گائے اور بھینس ایک جگہ سےدوسری چگہ خرید وفرخت کے لیے ٹرکوں سی ہی بھیجی جاتی ہیں۔ لیکن بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد مویشیوں کی نقل و حمل ایک انتہائی پر خطر مہم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ دادری کے واقعے سے پہلے ملک کے مختلف علاقوں میں مویشیوں کے ٹرک لے جانے والوں پر حملے اور مویشیوں کو لوٹنے کے درجنوں بڑے واقعات ہو چکے ہیں۔

مبصرین کہتے ہیں کہ آر ایس ایس نے مسلمانوں کو ہمیشہ بھارت مخالف اور اسلام مذہب کےسبب ہمیشہ باہری سمجھا, آر ایس کا تصور ہےکہ مسلمان کبھی بھارت کا نہیں ہو سکتا اور حکمراں جماعت کے بیشتر رہمنا آر ایس ایس کے تربیت یافتہ ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمبصرین کہتے ہیں کہ آر ایس ایس نے مسلمانوں کو ہمیشہ بھارت مخالف اور اسلام مذہب کےسبب ہمیشہ باہری سمجھا, آر ایس کا تصور ہےکہ مسلمان کبھی بھارت کا نہیں ہو سکتا اور حکمراں جماعت کے بیشتر رہمنا آر ایس ایس کے تربیت یافتہ ہیں

چند مہینے پہلے گجرات میں پالیٹانہ نام کے ایک شہر کی میونسپلٹی نے شہر میں گائے کے ذبحے کرنے، فروخت اور کھانے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

وزیر اعظم منتخب ہونے سے پہلے نریندر مودی جب گجرات کے وزیر اعلی تھے اس وقت بعض دفعہ مسلمانوں کے تیہوار بقرا عید کے دن چھٹی نہیں دی گئی اور سکولوں میں بچوں کے امتحان رکھے گئے۔

ملک میں ایک عرصے سے سبزی خوری کے نام پر گوشت خوری کے خلاف ایک انتہا پسند مذہبی تحریک چل رہی ہے۔ مختلف سخت گیر ہندو تنظیمیں گوشت خوری کے خلاف مذہبی نفرت کا جذبہ پیدا کرنے میں لگی ہو ئی ہیں۔ بھارت کے بیشتر سرکاری سکولوں میں کھانے کے مینیو میں گوشت اور نان ویج شامل نہیں ہے۔ بیشتر پرائیوٹ سکولوں نے بھی سخت گیر ہندو تنظیموں کے خطرے اور کسی تنازعے سے بچنےکےلیے سکولوں میں نان ویج کھانے پرپابندی عائد کر رکھی ہے۔

ملک میں گوشت کھانے والے مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کی مجموعی آبادی سے دو گنی سے بھی زیادہ ہندو آبادی گوشت خور ہے۔ ہندوؤں کےبعض طبقے گائے کا گوشت بھی شوق سے کھاتے ہیں۔

ملک کی بیشتر ریاستوں میں گائے کے گوشت پر پابندی عائد ہے اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں دس برس کی قید کی ‎‎سزا ہو سکتی ہے۔

تو پھرگائے پراتنا واویلا کیوں مچا ہوا ہے۔ دراصل گائے آر ایس ایس کا ایک کامیاب آزمودہ فارمولہ ہے۔ گائے تو صرف ایک بہانہ ہے۔ اس کا نشانہ مسلمان ہیں۔

ملک میں ایک عرصے سے سبزی خوری کے نام پر گوشت خوری کے خلاف ایک انتہا پسند مذہبی تحریک چل رہی ہے اور مختلف سخت گیر ہندو تنظیمیں گوشت خوری کے خلاف مذہبی نفرت کا جذبہ پیدا کرنے میں لگی ہو ئی ہیں

،تصویر کا ذریعہJagdish Parihar

،تصویر کا کیپشنملک میں ایک عرصے سے سبزی خوری کے نام پر گوشت خوری کے خلاف ایک انتہا پسند مذہبی تحریک چل رہی ہے اور مختلف سخت گیر ہندو تنظیمیں گوشت خوری کے خلاف مذہبی نفرت کا جذبہ پیدا کرنے میں لگی ہو ئی ہیں

مبصرین کہتے ہیں کہ آر ایس ایس نے مسلمانوں کو ہمیشہ بھارت مخالف اور اسلام مذہب کےسبب ہمیشہ ’باہری‘ سمجھا۔ آر ایس کا تصور ہےکہ مسلمان کبھی بھارت کا نہیں ہو سکتا۔ حکمراں جماعت کے بیشتر رہمنا آر ایس ایس کے تربیت یافتہ ہیں۔

اسی لیےاس کے تریبت یافتہ اوراس کے نظریات کے حامل رہنا اکثرمسلمانوں کو پاکستانی، پاکستان بھیجنے یا ملک سے نکالنے کی بات کرتے ہیں۔

کچھ دنوں پہلے ایک ہندو رہنما نےمسلمانوں کو برما کے روہنجیا مسلمانوں کی یاد دلائی۔ وزیر ثقافت نے ابھی کجھ دنوں پہلے ہی کہا تھا کہ مسلمان ملک سے محبت نہیں کرتے۔ اور اب کھٹر کا بیان آیا ہے کہ مسلمان اگر بھارت میں رہنا چاہتے ہیں تو گائے کا گوشت کھانا چھوڑیں۔

بی جے کے اقتدار میں آنے کے بعد سخت گیر ہندو تنظیموں نے مسلمانوں کے خلاف مختلف شکلوں میں ایک مہم چھیڑ رکھی ہے۔ ان کے پاس ایسا کوئی قابل قبول اور جامع سیاسی نظریہ نہیں ہے جو بھارت کے لبرل، جمہوری، روادار اور تکثیری نظام کا متبادل بن سکے۔ صرف نفرت کی سیاست ہے جس پروہ عمل پیرا ہیں۔ لیکن کسی جمہوری معاشرے میں منفی سیاست زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتی۔ ایک بہتر مثبت جمہوری نظریہ ہی متبادل بن سکتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی غالباً اس حقیقت کو پہلے ہی سمجھ چکے ہیں اور اگر کوئی ابہام باقی ہے تو وہ بھی وقت کے ساتھ دور ہونے لگے گا۔