کیا بہار مودی کی یلغار کو روک سکےگا؟

بہار کے انتخاب میں لالو یادو، موجودہ وزیراعلی نتیش کمار اور کانگریس متحد ہو کر انتخاب میں اترے ہیں

،تصویر کا ذریعہnirajsahai

،تصویر کا کیپشنبہار کے انتخاب میں لالو یادو، موجودہ وزیراعلی نتیش کمار اور کانگریس متحد ہو کر انتخاب میں اترے ہیں
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت کی ریاست بہار میں اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے۔ آئندہ مہینے سے یہ انتخابات پانچ مرحلوں میں پورے کیے جائیں گے۔

بہارکا یہ صوبائی انتخاب قومی سطح پر انتہائی اہمیت کا حامل تصور کیا جا رہا ہے۔

اس انتخاب کا فیصلہ ملک کی قومی سیاست کی سمت کا تعین کرے گا۔ اس انتخاب کی کتنی اہمیت ہے کہ خود وزیر اعظم انتخاب کی تاریخ سے پہلے ہی ریاست میں انتخابی مہم کا آغازکر چکے ہیں۔

بہار کے انتخاب میں ایک طرف لالو یادو، موجودہ وزیراعلی نتیش کمار اور کانگریس متحد ہو کر انتخاب میں اترے ہیں تو دوسری جانب بی جے پی، رام ولاس پاسوان اور جیتن رام مانجھی کامحاذ مد مقابل ہے۔

بہار میں میں بی جے پی کو روایتی طور پر اعلیٰ ذاتوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔ لیکن دلت رہنما رام ولاس پاسوان اور جیتن رام مانجھی جو کچھ عرصے قبل تک لالو یادو اور نتیش کمار کے ساتھ ہوا کرتے تھے ان کے بی جے پی کےساتھ آجانے سے بی جے پی کا سماجی توازن بہتر ہوا ہے۔

 بی جے پی بہار میں مودی حکومت کی ترقی کےایجنڈے اور حکومت کی کاردگی کی بنیاد پرانتخاب میں اتری ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن بی جے پی بہار میں مودی حکومت کی ترقی کےایجنڈے اور حکومت کی کاردگی کی بنیاد پرانتخاب میں اتری ہے

بہار کے انتخاب کو وزیر اعظم مودی کی حکومت پر ریفرنڈم سمجھا جا رہا ہے۔ بی جے پی بہار میں مودی حکومت کی ترقی کے ایجنڈے اور حکومت کی کاردگی کی بنیاد پرانتخاب میں اتری ہے۔ مودی نے کچھ عرصے قبل پسماندہ بہار کی ہمہ جہت ترقی کےلیے 25 ارب ڈالرکے ایک خصوصی ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ لالو اورنتیش کے 25 برس کےاقتدارمیں بہار آگےنہیں بڑھ سکا جبکہ دوسری ریاستیں کافی آگےنکل چکی ہیں۔

دوسری جانب لالو، نتیش اور کانگریس ریاست کےاکثریتی پسماندہ ذاتوں اور مسلم اقلیتوں کی نمائندگی کا دعویٰ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ مودی نے بڑے بڑے وعدے کیے لیکن یہ وعدے محض وعدے ہی ثابت ہوئے ہیں۔ یہ جماعتیں پسماندہ ذاتوں کو پسماندگی سے باہر لانےکا وعدہ کررہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اپنی حکومت کی کارکردگیوں کو اجاگر کررہے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے تجزیوں سے بہار کی انتخابی صورتحال کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن دوسرے ذرائع سے ملنے والے اشاروں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مقابلہ کافی سخت اورچیلنج بھرا ہوگا۔ فی الحال صورتحال کچھ حد تک بی جے پی کے کی جانب جھکی ہوئی نظر آتی ہے لیکن اننتخابی مہم باضابطہ طور پر شروع ہونے کے بعد ہی عوامی رحجانات کا صحیح اندازہ ہو سکے گا۔

اگر بہار کے انتخابات میں لالو نتیش اور کانگریس کی شکست ہوتی ہےتو یہ لالو اور نتیش کمار کے 25 برس کےاقتدارکا خاتمہ ہی نہیں ان کے سیاسی اور سماجی نظریے کی بھی شکست ہوگی۔ یہ شکست ان رہنماؤں کی علاقائی سیاسی جماعتوں راشٹریہ جنتا دل اور جنتا دل یونائٹڈ کے وجود کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

بھارتی میڈیا کے تجزیوں سے بہار کی انتخابی صورتحال کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے

،تصویر کا ذریعہMANISH SHANDILYA

،تصویر کا کیپشنبھارتی میڈیا کے تجزیوں سے بہار کی انتخابی صورتحال کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے

دوسری جانب بی جےکی فتح کو مودی کی فتح سےتعبیرکیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف قومی سطح پر مودی کی ذاتی پوزیشن مستحکم ہوگی بلکہ ان کے ایجنڈے اور پالیسیوں کو بھی نئی طاقت اور حمایت ملے گی۔

لیکن اگربہار میں بی جے پی شکست کھا گئی تو بی جے پی کے اندر موجود ہندوتوا کی قوتیں پارٹی پر غالب آجائیں گی اور ترقی کا ایجنڈا پیچھے جا سکتا ہے۔

دوسری جانب بہار کےانتخاب میں لالو، نتیش اورکانگریس کے محاذ کی جیت کی صورت میں قومی سطح پربی جےکے خلاف نئی صف بندی کا آغازہو سکتا ہے۔

بھارت کی سیاسی تاریخ کےاس اہم الکشن میں انتخابی سرگرمیوں کے باضباطہ آغازسے پہلے فی الحال نتیش، لالو اور کانگریس کا محاذ دقاعی پوزیشن میں ہے۔