بہار: نوجوان ووٹرز کی اہمیت پر نظر ثانی کی ضرورت

،تصویر کا ذریعہritesh kumar verma
- مصنف, سرور احمد
- عہدہ, سینیئر صحافی، پٹنہ بہار
بھارت میں سنہ 2014 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی طرح بہار کے اسمبلی انتخابات میں بھی نوجوان ووٹرز کی اہمیت پر مختلف فورمز پر باتیں ہو رہی ہیں۔
مختلف سطح پر رائے عامہ بنانے والے 18 سے 25 یا 30 سال کی عمر کے درمیان کے ووٹرز کی اہمیت کو اجاگر کرتے آتے ہیں۔
ان کے مطابق اس عمر کے ووٹرز نے پارلیمانی انتخابات میں سوشل میڈیا کی سطح پر پورے ملک میں بی جے پی کے حق میں ماحول تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے سماجی رابطے کی سائٹوں پر بی جے پی کہ حق میں بڑے پیمانے پر کام کیا لیکن جہاں تک بہار میں ووٹ دینے کا معاملہ ہے تو یہاں خواتین کی اہمیت ان سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ ان کے مقابلے خواتین میں بہار سے ہجرت کا چلن کم نظر آتا ہے۔
اس طرح بہار میں نوجوان ووٹرز کی اہمیت کا اظہار قدرے مبالغے کا شکار نظر آتا ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ پر سرگرم ہونا ایک بات ہے اور ووٹ ڈالنا دوسری۔ اس طرح خواتین ووٹرز ایک مضبوط گروپ کے طور پر ابھرتی ہیں جو خاموشی سے اپنا کام کر جاتی ہیں جبکہ نوجوان بولتے زیادہ ہیں اور انھیں ووٹ دینے کا موقعہ بھی کم ہی مل پاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہManish shandilya
بہار کے لاکھوں نوجوان یا تو ریاست سے باہر تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا پھر کاشتکاری، تعمیرات اور صنعت کے دوسرے شعبوں میں محنت مزدوری کر رہے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو عارضی یا موسمی طور پر ہجرت کرتے ہیں اور وہ اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کر پاتے ہیں۔
ان طلبہ اور مزدوروں کی اصل تعداد کے بارے میں نہیں بتایا جا سکتا کیونکہ یہ مستقل جاری رہنے والا عمل ہے۔ اس گروپ کو بہار کے ان مہاجر گروپ کے ساتھ نہیں رکھا جا سکتا جو مستقل طور پر دوسری جگہ جا بسے ہیں اور ان کا وہاں کا ووٹر آئی ڈی ہے۔
18 سے 30 سال کی عمر کے وہ ووٹرز جن کے پاس نئی جگہ کا ووٹر کارڈ نہیں ہے وہ بس اتنا کر سکتے ہیں کہ اپنے خالی اوقات میں سوشل میڈیا کا استعمال کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بہار کے لاکھوں نوجوان مزدور مئی اور جون کے مہینوں میں سبز انقلاب والے علاقے پنجاب، ہریانہ اور مغربی اترپردیش کا رخ کرتے ہیں اور یہی موسم مقابلہ جاتی امتحانات کا بھی ہوتا ہے اور اس لیے اس موسم میں اس روٹ کی تمام ٹرینیں حد سے زیادہ بھری ہوئی ہوتی ہیں۔
یہ موسمی مزدور اکتوبرکے مہینے میں فصل کی کٹائی کے بعد لوٹ آتے ہیں اور ان کی واپسی عام طور پر ہندوؤں کے مذہبی تہوار دیوالی اور چھٹھ کے موقعے پر ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہManish shandilya
ان کی تعداد اور مشکلات کا انداز کوئی پرانی دہلی ریلوے سٹیشن پر جاکر لگا سکتا ہے جہاں سے پنجاب، ہریانہ، اور اترپردیش سے بہار آنے جانے کے لیے ٹرینیں ہیں۔ اگر کاشتکاری کے کام میں سرگرم یہ مزدور انتخابات سے پہلے پہلے لوٹ آتے ہیں تو یہ ووٹ دے سکتے ہیں۔
ان کی غیر موجودگی میں خواتین ووٹرز کا فیصد بڑھ جاتا ہے جیسا کہ سنہ 2010 کے اسمبلی انتخابات میں ہوا تھا۔ اگر طلبہ ریاست سے باہر نہیں جاتے ہیں پھر بھی وہ ریاست کے اندر ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ بہتر تعلیم کے لیے جاتے رہتے ہیں۔ دارالحکومت پٹنہ ایسے لاکھوں طلبہ اور مزدوروں کا عارضی مسکن ہے۔ ان میں سے تمام لوگ اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے اپنے گھر نہیں جاتے ہیں کیونکہ انتخابات کے لیے بسوں کے ضبط کر لیے جانے کی وجہ سے اس زمانے میں سفر کرنا قدرے مشکل ہو جاتا ہے۔
چونکہ انھیں چھوٹا سفر کرنا پڑتا ہے اس لیے وہ ووٹ ڈالنے کے لیے درگا پوجا، دیوالی یا چھٹھ جیسے تہوار سے قبل یا اس کے بعد رک سکتے ہیں۔
جب کاشتکاری کے شعبے کے مزدور لوٹ رہے ہوتے ہیں اس وقت اونی کپڑوں کی صنعت کے مزدور ریاست پنجاب کا رخ کر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ وہ موسم سرما کے اختتام پر لوٹتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہManish shandilya
اب لاکھوں لڑکیاں بھی تعلیم کی خاطر ریاست بہار سے باہر جانے لگی ہیں۔ ایسے میں پٹنہ کی مختلف کالونیوں میں سیاسی جماعتوں کو نوجوان کارکن نہیں مل رہے ہیں کیونکہ وہاں کے رہائشی باہر جا چکے ہیں اور جو وہاں ہیں ان کا ووٹ وہاں نہیں ہے اور نہ ہی وہ وہاں کے مقامی حالات سے بخوبی واقف ہی ہیں۔
بہار سے بڑی تعداد میں کام کرنے والوں کے باہر جانے سے خواتین کے حصے میں سنہ 1990 کی دہائی سے اضافہ نظر آ رہا ہے۔ اس بابت ایک غیر سرکاری تنظیم نے مطالعہ کیا ہے اس لیے نوجوان ووٹروں کی اہمیت پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔







