بہار میں الیکشن سے قبل مودی کا ترقیاتی پیکیج

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارت کی مشرقی ریاست بہار کے اسمبلی انتخابات سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے وہاں ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے ایک لاکھ 65 ہزار کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔
نریندر مودی نے کہا کہ ’بہار کی تقدیر بدلنے کے لیے وفاقی حکومت سوا لاکھ کروڑ روپے دےگی۔ اس کے علاوہ ایسے ترقیاتی کاموں کے لیے، جن پر کام ابھی شروع ہی ہوا ہے، مزید 40 ہزار کروڑ روپے مہیا کیے جائیں گے۔‘
بہار کا شمار ملک کی سب سے غریب ریاستوں میں ہوتا ہے۔ نریندر مودی نے ریاست کے آرہ ضلع میں ایک جلسے سے خطاب کر تے ہوئے یہ اعلانات کیے تھے۔
بہار میں جلد ہی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور وہاں بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لیے حزب اختلاف کی جماعتیں متحد ہو کر انتخابی میدان میں اترنے کا اعلان کر چکی ہیں۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جماعت جنتا دل یونائٹڈ، ان کے پرانے حریف اور سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو اور کانگریس نے بہار میں بی جے پی کو شکست دینے کے لیے مل کر انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بہار کے انتخابات نریندر مودی کے لیے خاص اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اگر ریاست میں بی جے پی ہار جاتی ہے تو اس سے یہ واضح پیغام جائے گا کہ ان کی مقبولیت کم ہوئی ہے اور یہ کہ اگر حزب اختلاف متحد ہو جائے تو بی جے پی کو ہرایا جا سکتا ہے۔
بہار کے لیے وفاقی حکومت کے پیکیج کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ البتہ ریاست میں جلد ہی انتخابی ضابطہ اخلاق عمل میں آنے والا ہے جس کے بعد کوئی ایسا اعلان نہیں کیا جا سکے گا جسے حکومت کی جانب سے ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
نریندر مودی نے کہا کہ ’پارلیمانی انتخابات کے دوران میں نے آپ سے 50 ہزار کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وزیر اعظم بننے کے بعد مجھے سمجھ میں آیا کہ 50 ہزار کروڑ سے کوئی ٹھوس تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔اس لیے میں نے سوا لاکھ کروڑ روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جلسے میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو بھی مدعو کیا گیا تھا لیکن انھوں نے شرکت نہیں کی۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان عرصے سے لفظوں کی جنگ جاری ہے حالانکہ نتیش کمار بی جے پی کے پرانے اتحادی رہے ہیں لیکن جب نریندر مودی کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا تو انھوں نے بی جے پی سے تعلق ختم کر دیا تھا۔
چند روز قبل نریندر مودی نے بہار کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ نتیش کمار کے ڈی این اے میں ترقی شامل نہیں ہے۔ جواب میں نتیش کمار نے کہا کہ یہ بہاریوں کی توہین ہے اور انھوں نے بہاریوں کے ڈی این اے کی جانچ کے لیے لاکھوں نمونے وزیر اعظم کو بھیجنے کے لیے مہم شروع کر دی۔
ریاستی اسمبلی میں 244 نشستیں ہیں جن میں سے سو پر نتیش کمار کی پارٹی اور سو پر لالو پرساد یادو کی پارٹی اپنے امیدوار کھڑے کرے گی جبکہ 40 نشستیں کانگریس کے لیے چھوڑ دی گئی ہیں۔ چار نشستیں دوسری ممکنہ اتحادی جماعتوں کے لیے رکھی گئی ہیں۔
نریندر مودی محتدہ عرب امارات سے براہ راست بہار پہنچے تھے۔







