’بیٹی اپنی ماں کی وزارت کے خلاف وکیل‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے الزام لگایا کہ وزیر خارجہ سشما سوراج کی وزارت جب آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی کے خلاف مقدمہ لڑ رہی تھی تو خود محترمہ سوراج کی بیٹی عدالت میں للت مودی کا دفاع کر رہی تھیں۔
بدھ کے روز کانگریس پارٹی کے ترجمان رنڑ دیپ سرجےوالا نےایک پریس کانفرنس میں کہا ’للت مودی کا پاسپورٹ ضبط کرنےکے معاملے میں سشما سوراج کی وزارت ہائی کورٹ میں کیس لڑرہی تھی اور ان کی بیٹی ہی للت مودی کی وکیل تھیں۔‘
کانگریس نے راجستھان کی وزیراعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا پر بھی ’قانون سے فرار شدہ‘ للت مودی کی مدد کرنے کا الزام لگایا ہے۔
پارٹی کے ترجمان سرجےوالا نے کہا کہ’سشما سوراج اور وسندھراراجے، دونوں سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے مجرم ہیں۔ دونوں آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت بنیادی طور پرمجرم ہیں۔ ان معاملات میں انہیں سات برس تک کی سزا ہو سکتی ہے۔‘
اس سے قبل سابق وزیر خزانہ پی چدامبرم نے بھی بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا ’حکومت یہ بتائے کہ ہائی کورٹ سے مودی کو جو بری کیا گیا اس کے خلاف اپیل نہ کرنے کا وزارت خارجہ کا فیصلہ کس نے لیا۔‘

کانگریس پارٹی کے ترجمان رنڑ دیپ سرجےوالا نے وزیر خزان ہارون جیٹلی کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں جیٹلی نےکہا تھا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کافیصلہ متعلقہ وزارت کا تھا۔
بھارتی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے انڈین پریمیئر لیگ کے سابق کمشنر للت مودی پر مالی سطح پر بدعنوانی کے الزامات لگائے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت نے ان کے پاسپورٹ کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے بعد للت مودی برطانیہ سے بھارت واپس نہیں آئے ہیں۔
بھارتی حکومت نے برطانیہ کو لکھا تھا کہ للت مودی کو بھارت میں کئی مقدمات کا سامنا ہے اور انہیں بھارت بھیجا جائے تا کہ وہ مقدمات کا سامنا کریں۔
بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور راجستھان کی وزیراعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا پر الزام ہے کہ وہ للت مودی کے برطانیہ میں قیام کرنے میں مدد کی ہے۔
چدامبرم نے میڈیا سے کہا کہ للت مودی پر منی لانڈرنگ اور فیما کے تحت کیس درج کیے گئے تھے۔







