نریندر مودی کے بیان پر بہار کا انوکھا احتجاج

،تصویر کا ذریعہBIHARPICTURES.COM
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی، دلی
بھارت کی ریاست بہار کی حکومت ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کو ڈی این اے کے 50 لاکھ نمونے بھیجنے کے منصوبے پر کام کیوں کر رہی ہے؟
کیوں کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ نتیِش کمار کے مطابق مودی نے ان پر تہمت لگا کر بہاریوں کو دکھ پہنچایا ہے۔
بی جے پی اور نتیش کمار بہار میں آٹھ سال تک اتحادی رہ چکے ہیں۔ اب ریاستی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس موقعے پر مودی نے حال ہی میں ایک مہم کے دوران کہا تھا کہ نتیش کمار نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد ختم کر کے ثابت کیا ہے کہ ان کے ’سیاسی ڈی این اے‘ میں کوئی خرابی ہے۔
نتیش کمار نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جواب دیا کہ مودی کو اپنے الفاظ واپس لینے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے طور پر بہار کے 50 لاکھ افراد ’ایک مہم کا آغاز کریں گے اور مودی کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے بھیجیں گے۔‘
نتیش کمار نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’میں بہار کا بیٹا ہوں اور میرا ڈی این اے بہار کے لوگوں کا ڈی این اے ہے۔ تو میں اب یہ بہار کے لوگوں پر چھوڑتا ہوں کہ وہ ایک ایسے شخص کو کیسے جواب دینا چاہیں گے جو یہ کہتا ہے کہ ان کے ڈی این اے میں خرابی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBIHARPICTURES.COM
گذشتہ ہفتے نتیش کمار کی ریاستی حکومت نے ڈی این کے لیے نمونے اکٹھے کرنے کی مہم کا آغاز کیا جس کے لیے ریاستی دارالحکومت پٹنہ میں بالوں اور ناخنوں کے نمونے اکٹھے کرنے کے لیے 250 کیمپ لگائے گئے جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے اس مہم میں حصہ لیا۔
ایک صحافی کے مطابق بعض کیمپوں میں ایک کلومیٹر تک لمبی قطاریں بھی دیکھی گئیں۔
وہاں موجود افراد کو، جن میں زیادہ تر نتیش کمار کی جنتا دل (یونائٹڈ) پارٹی کے ورکر تھے، پلاسٹک کے لفافے دیے گئے تھے تاکہ ان میں وہ ان نمونوں کو بند کر کے حکام کے حوالے کر سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مہم کے اشتہاروں پر لکھا ہے کہ ’مجھے بہاری ہونے پر فخر ہے، ہم میں کوئی خرابی نہیں۔ اگر آپ کو ہمارے دعوے پر شک ہے تو ہمارا ٹیسٹ کر لیں۔‘
لیکن جب میرے ایک صحافی دوست نے قطار میں کھڑے ایک آدمی سے پوچھا کہ کیا انھیں معلوم ہے کہ ڈی این اے کیا ہوتا ہے تو اس کا جواب تھا: ’میں کیوں معلوم کروں؟ مجھے کہا گیا تھا کہ اپنے بال اور ناخن کا نمونہ دینے آؤ کیوں کہ انھیں مودی کو بھیجنا ہے اس لیے میں یہاں آیا ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
نتیش کمار نچلے طبقوں میں بہت مقبول ہیں ہیں اور انڈیا کی سب سے غریب ترین ریاستوں میں سے ایک میں ان کی حکومت ہے۔
وہ بی جے پی کے سابق اتحادی ہیں۔ وہ اس سے پہلے بی جے پی کی سربراہی میں بننے والی مخلوط حکومت میں وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ سنہ 2005 میں انھوں نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں بہار میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی اور ریاست کے وزیر اعلیٰ بن گئے تھے۔ بی جے پی کے ساتھ آٹھ سال تک اتحاد میں رہنے اور ریاست میں حکومت کرنے کے بعد سنہ 2013 میں انھوں نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد ختم کر دیا تھا۔ اتحاد ختم کرنے کی وجہ گذشتہ سال ہونے والے عام انتخابات کے لیے بی جے پی کی جانب سے نریندر مودی کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر نامزد کرنا تھا۔ بہار میں ذات کے نام پر لوگ منقسم ہیں اور 65 فیصد افراد کا تعلق نچلی ذاتوں سے ہے، اور نتیش کمار نے اکثر بہاری پہچان اور فخر کی بنیاد پر ووٹروں کے دل جیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBIHARPICTURES.COM
چند برس قبل انھوں نے اپنی سوانح عمری کے مصنف سنکرشن ٹھاکر کو بتایا تھا کہ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ’گذشتہ کچھ برسوں میں ایک نئی بہاری پہچان ابھر کر سامنے آئی ہے جو طبقوں اور ذات سے بالاتر ہے۔‘
تاہم نتیش کمار کی دور اندیشی کا اب تک کوئی ثمر نظر نہیں آیا۔ ریاست میں اب بھی انتخابات ذاتوں کی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں اور اس سے بالاتر اور ایک ہو کر بہاری کم ہی سر اٹھاتے ہیں۔ جب ممبئی میں دائیں بازو کی جماعت شیو سینا کے افراد نے وہاں کام کی غرض سے جانے والے بہاریوں پر حملے کیے تھے تو بہاریوں نے خوب احتجاج کیا تھا۔
بہار سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر صحافی کا کہنا تھا کہ ’یہ ڈی این اے اکٹھا کرنے والا قدم انتہائی احمقانہ ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ آخر اس سے نتیش کمار کو کیا حاصل ہو گا۔‘
یہ واضح نہیں کہ 50 لاکھ بہاریوں کے ڈی این اے کے نمونے انتخابی طور پر انھیں کیسے متحد کر سکیں گے۔ بی جے پی کے مطابق اس قسم کے ٹیسٹوں پر 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ کا خرچہ آئے گا۔
اور یہ بعداز قیاس ہے کہ رقم مودی ادا کریں گے۔







