بھارت: مشتعل ہجوم کے ہاتھوں نجی سکول کا ڈائریکٹر ہلاک

،تصویر کا ذریعہNeeraj Sahay
بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار میں دو طلبہ کی موت پر برہم ہجوم نے ایک نجی سکول کے ڈائریکٹر کو پیٹ کر ہلاک کر دیا۔
یہ واقعہ ریاست کے نالندہ ضلعے کے میر پور گاؤں میں اتوار کو پیش آیا جس میں دیویندر پرساد سنہا ہجوم کے اشتعال کا شکار ہو گئے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسٹر سنہا کے پرائیویٹ سکول کے دو طلبہ کی لاشیں ایک نہر میں پڑی ملیں۔
میر پور گاؤں کے رہائشی مہیش پرساد نے بتایا کہ صبح سات آٹھ بجے کے قریب دیویندر پرساد سنہا پبلک سکول کے دو طالب علموں کے ہاسٹل سے غائب ہونے کی خبر ملی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ تلاش کرنے پر دونوں طلبہ روی کمار اور ساگر کمار کی لاشیں نہر میں ملیں اور دونوں کے منھ اور کان سے خون نکل رہا تھا۔
گاؤں والوں نے طلبہ کے قتل کا الزام اس پرائیویٹ سکول کے اساتذہ پر لگایا، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کی جانچ کر رہی ہے اور اس میں اساتذہ کے شامل ہونے کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔ اس معاملے میں ابھی تک کوئی گرفتاری سامنے نہیں آئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہNeeraj Sahay
اس واقعے کی خبر پھیلتے ہی سکول کے پاس بھیڑ جمع ہو گئی اور لوگوں نے سکول کے ڈائریکٹر کو موت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
غصے میں بپھرے ہوئے لوگوں نے سکول کے ڈائریکٹر کو بے رحمی سے مارا پیٹا۔ مشتعل ہجوم نے سکول میں آگ لگانے کے ساتھ دو گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نالندہ کے ایس پی ڈاکٹر سدھارتھ کے مطابق دونوں مردہ لڑکے ساگر اور روی رنجن اسی سکول کے طالب علم تھے اور یہ سکول کسی بورڈ سے منظور شدہ نہیں ہے۔
مقامی ٹی وی چینل نے مسٹر سنہا کو زمین پر گرا کر مارنے پیٹنے کے مناظر دکھائے۔ بعد میں سکول ڈائریکٹر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گئے۔

،تصویر کا ذریعہNeeraj Sahay
صحافی نیرج سہائے نے بی بی سی کو بتایا کہ سکول کے چار بچے اتوار کی صبح رفع حاجت کے لیے گئے تھے لیکن ان میں سے دو واپس نہیں لوٹے۔
پولیس کو وہاں پہنچنے میں کچی سڑک کی وجہ سے تاخیر ہوئی، اس دوران ہزار ڈیڑھ ہزار لوگوں کی بھیڑ وہاں اکٹھی ہو چکی تھی اور ہجوم نے قانون اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
بھارت میں ہجوم کے ہاتھوں اس قسم کے تشدد کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ مارچ میں شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ میں ریپ کے ایک ملزم سید شریف خان کو ہجوم نے جیل سے نکال کر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا۔ ملزم کو برہنہ کیا گیا، مارا پیٹا گیا، ناگالینڈ کے اہم شہر دیماپور میں گھمایا گیا اور بالآخر پھانسی دے دی گئی۔
رواں سال جنوری میں بہار کے مظفرپور ضلعے میں ایک ہندو لڑکے کی موت پر مشتعل ہجوم نے مسلم اکثریت والے گاؤں عزیز پور کے تین لوگوں ہلاک کردیا اور کئی مکانات کو نذر آتش کر دیا تھا۔







