مظفرپور: مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تین افراد کی ہلاکت پر 14 گرفتار

،تصویر کا ذریعہReuters File Photo
بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار کے ضلع مظفر پور میں پولیس نے فسادات کے دوران تین افراد کی ہلاکت کے معاملے میں 14 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ہلاکتوں کا واقعہ اتوار کو سريا تھانے میں واقع مسلم اکثریتی گاؤں عزیزپور میں اس وقت پیش آیا جب مبینہ طور پر اغوا کیے گئے ایک ہندو نوجوان کی لاش ملنے کے بعد ہنگامے شروع ہوگئے۔
ان ہنگاموں کے دوران مشتعل ہجوم نے کئی مکانات کو بھی نذر آتش کیا جس میں تین افراد جل کر ہلاک ہوگئے۔
بہار کے ایڈیشنل پولیس ڈی جی (ہیڈکوارٹر) گپتیشور پانڈے نے بتایا کہ یہ ایک مسلمان لڑکی اور ایک ہندو لڑکے کے درمیان محبت کے معاملے سے منسلک واقعہ ہے۔
بھارتندو کمار ساہنی نامی لڑکے کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا اور اس کے بعد اس کی لاش ملی۔ لاش ملنے کے بعد مقامی شرپسند ہجوم نے کئی مکانوں کو نذر آتش کردیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جلنے والے لوگوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے جبکہ علاقے میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے۔
اس معاملے میں قانون نظام کو برقرار رکھنے کے لیے پڑوسی اضلاع سے بھی سکیورٹی اہلکاروں کو طلب کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
بہار حکومت کی جانب سے داخلہ سکریٹری سدھیر کمار اور اے ڈی جی پولیس ہیڈکوارٹر گپتیشور پانڈے کی قیادت میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری ذرائع کے مطابق 19 سالہ طالب علم بھارتیندو ساہنی مالی ٹولا کے کمل ساہنی کا بیٹا تھا۔
سريا تھانے میں طالب علم کے والد نے اپنے بیٹے کے اغوا سے متعلق 11 جنوری کو ایف آئی آر درج کرائی تھی۔
ایف آئي آر میں عزیزپور گاؤں کے محمد وصی احمد کے بیٹے صداقت علی کو نامزد ملزم بتایا گیا ہے۔
صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران مذکورہ گاؤں پہنچ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں دو مذاہب کے درمیان محبت کے نام پر متعدد ہندو تنظیمیں سرگرم ہیں اور وہ مبینہ لو جہاد کے خلاف سرگرم ہیں۔







