بھارتی وزیر کی متنازع بیان پر معافی

سادھوی جیوتی اترپردیش کے فتح پور حلقے سے بی جے پی سے پہلی مرتبہ لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئی ہیں

،تصویر کا ذریعہPIB

،تصویر کا کیپشنسادھوی جیوتی اترپردیش کے فتح پور حلقے سے بی جے پی سے پہلی مرتبہ لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئی ہیں

بھارت میں وفاقی وزیر سادھوری نرنجن جیوتی کو اپنے اس بیان پر معافی مانگنا پڑی ہے کہ لوگوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انھیں ’رامزادوں کی حکومت چاہیے یا ’۔۔۔۔زادوں کی؟

انھوں نے یہ بات پیر کو دہلی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھی۔ بعد میں اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ’میرا یہ بیان ان لوگوں کے لیے تھا جو رام میں یقین نہیں رکھتے، ملک کے اتحاد میں یقین نہیں رکھتے، اسے فرقہ پرستی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔۔۔ کیا اس ملک میں رام کے بارے میں بات کرنا جرم ہے؟‘

لیکن پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں جب حزب اختلاف کی جماعتوں نے ان کے استعفے اور ان کے خلاف مقدمہ قائم کیے جانے کا مطالبہ کیا تو سادھوی نرنجن جیوتی کو معافی مانگنا پڑی۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے اپنے بیان پر افسوس ہے، میرا مقصد کسی کو تکلیف پہنچانا نہیں تھا، میں اپنے الفاظ واپس لیتی ہوں۔‘

وزیر خزانہ ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ جرم قائم کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزیر خزانہ ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ جرم قائم کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں

حزب اخلاف کے رہنما پنے اس مطالبے پر قائم ہیں کہ مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں ان کے خلاف مقدمہ قائم کیا جانا چاہیے اور انھیں وزارتی کونسل سے برخاست کیا جائے۔

لیکن راجیہ سبھا میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ جہاں تک پارلیمان کا سوال ہے، سادھوی اظہار افسوس کرچکی ہیں، جہاں تک یہ سوال ہے کہ کوئی جرم کیا گیا ہے یا نہیں، یہ فیصلہ ایوان کےباہر قانون کانفاذ کرنے والی ایجنسیاں کریں گی۔‘

بعد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سادھوی نے مزید کوئی وضاحت دینے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ معافی مانگ چکی ہیں اور اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کرسکتیں۔

سادھوی جیوتی اترپردیش کے فتح پور حلقے سے بی جے پی سے پہلی مرتبہ لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئی ہیں۔ فتح پور سے ہی سابق وزیر اعظم وی پی سنگھ دو مرتبہ لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔