حکومت کے کام کاج میں آر ایس ایس کا دخل کتنا؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, راجیش جوشی
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
بھارت میں جب سے نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت مرکز میں آئی ہے اس وقت سے یہ سوال اٹھایا جانے لگا ہے کہ کیا اب حکومت کے کام کاج میں آر ایس ایس (سنگھ) کا دخل بڑھ جائے گا؟
سنگھ اور بی جے پی دونوں اس سے انکار کرتے رہے ہیں۔
این ڈی اے کی سنہ 2004 میں شکست کے بعد آر ایس ایس یا سنگھ پورے دس برس تک سیاسی بياباں میں نظر آیا۔
لیکن سنہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں سنگھ کے سب سے قابل رضاکار اور سابق پرچارک نریندر دامودرداس مودی کی کامیابی کے بعد سے اقتدار کی باگ ڈور ایک بار پھر سے آر ایس ایس کے زیر اثر نظر آتی نظر آ رہی ہے۔
لیکن اس بار سنگھ نے اس دستے یا لگام کو اپنے ہاتھوں میں لینے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔
آر ایس ایس نے اقتدار پر قابض ہونے کی جلدبازی سنہ 1998 میں دکھائی تھی، جب سنگھ کے ایک دوسرے پرانے رضاکار اٹل بہاری واجپئی نے اتحادی جماعتوں کی مدد سے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس جلدبازی کی وجہ آر ایس ایس اور واجپئی حکومت کے درمیان تقریبًا روزانہ اختلاف ہوتا رہا، گھر کے اندر ہی نہیں بلکہ سڑکوں اور کھلے میدانوں میں بھی۔
وشو ہندو پریشد جیسی تنظیموں نے واجپئی کے لیے چین سے حکومت چلانا مشکل کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آر ایس ایس نے دیسی بیداری فورم کے نام کا ایک دوسری تنظیم میدان میں اتار دی تھی جو بی جے پی کے لیے بے رحم اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی تھی اور واجپئی کی پالیسیوں کو ’سنگھ مخالف‘ قرار دے رہی تھی۔
بہر حال سنگھ کے اندر رسائی رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ آر ایس ایس کی جانب سے نریندر مودی کو فی الحال کوئی چیلنج نہیں ہے کیونکہ سنگھ پہلے کے مقابلے زیادہ سمجھدار اور ذمےدار ہوا ہے۔
اس کی ایک واضح مثال تین اکتوبر کو ناگپور میں سامنے آئی جب پہلی بار سنگھ کے کسی سربراہ کی تقریر دوردرشن سے براہ راست نشرکی گئي۔

،تصویر کا ذریعہAFP
آر ایس ایس کے سربراہ مونن بھاگوت نے اس تقریر میں مرکزی حکومت کی کوششوں کی تعریف کی اور وزیر اعظم نریندر مودی نے موہن بھاگوت کی۔
سنگھ کو یہ اچھی طرح احساس ہو چکا ہے کہ جس پارٹی کو اقتدار میں لانے میں اس کے رضاکار جی جان لگا دیتے ہیں اسی حکومت کی قبر کھودنا از خود سیاسی ویرانے کے ٹکٹ کٹوانے جیسا ہوگا۔
سنگھ کو بہت قریب سے جاننے والے سینیئر صحافی اور ’یتھاوت‘ میگزین کے مدیر رام بہادر رائے کا خیال ہے کہ سنگھ اور نریندر مودی کے درمیان کوئی ابہام نہیں ہے۔
اس لیے اس بار نریندر مودی وزیر اعظم کی حیثیت سے جب لال قلعے فصیل سے ’کم، میک ان انڈیا‘ کہہ کر غیر ملکی کمپنیوں کو بھارت میں آنے اور صنعت لگانے کی دعوت دیتے ہیں تو کسی دیسی بیداری فورم کی جبین پرشکن نہیں ہوئی۔
انتخابی مہم کے دوران سنگھ کے ایک سینیئر اہلکار رام مادھو نے بھی کہا تھا کہ ’اقتصادی امور میں سنگھ بنیاد پرست نہیں ہے۔ یہ حکومت کو طے کرنا ہے کہ وہ کس شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
تو کیا سنگھ اپنے مسئلے چھوڑ رہا ہے؟
اگر اٹل بہاری واجپئی کے زمانے میں سنگھ اور اس سے منسلک تنظیموں کے رویوں کا آج سے مقابلہ کیا جائے تو ایسا لگ سکتا ہے کہ آر ایس ایس کئی مسائل پر اب سمجھوتہ کرنے کو تیار ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی غیر ملکی صنعت کاروں کو بھارت آنے کی ’بے ہچک پیش کش کر سکتے ہیں۔ انھیں یہ بھروسہ ہے کہ سنگھ اس پر ظاہری طور پر اعتراض نہیں کرے گا۔‘
وشو ہندو پریشد کے اشوک سنگھل اگرچہ اب بھی رام مندر بنائے جانے کی بات کہہ دیتے ہوں لیکن ایسا نہیں لگتا کہ اس معاملے پر آر ایس ایس اب کوئی تحریک شروع کرنے والی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP.PTI
اسی طرح جموں و کشمیر کو بھارتی یونین میں شامل رکھنے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے معاملے میں بھی کچھ وقت کے لیے ہی سہی، سنگھ نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔
حالانکہ پہلے سنگھ کا منصوبہ تھا کہ نئی حکومت کے آتے ہی اس معاملے پر عام بحث کی شروعات کی جائے۔
لیکن اب سنگھ اس معاملے پر لچک کا مظاہرہ کر رہی ہے اور وہ ان سوالات پر مصر نہیں ہے، کم از کم ان مسائل کو وہ فورا اپنی ناک کا مسئلہ نہیں بنا رہی ہے۔
بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سنگھ ایسا اس لیے نہیں کر رہا ہے کیونکہ اقتدار کی جو کشتی اسے پورے دس سال بعد ملی ہے، اسے وہ ڈبونا نہیں چاہتا۔







