ہندوتوا کے لیے آر ایس ایس کی آخری کوشش

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
’ہندوؤ صد فی صد ووٹ ڈالو یا پھر تاریخ میں گم ہو جاؤ۔ اگر اکثریتی فرقے نے اس وقت کی اہمیت نہیں سبمجھی اور صد فد ووٹ نہیں کیا تو وہ جلد ہی تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔‘
یہ اپیل بھارت کی ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس نے مدھیہ پردیش میں ایک پیمفلٹ کے ذریعے کی ہے۔
اس میں بی بے پی کا نام لیے بغیر ہندوؤں سے ایک ’قوم پرست حکومت‘ کے لیے ووٹ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔
بھارت کے پارلیمانی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ ساتھ ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے بھی ہزاروں ارکان ان دنوں پورے ملک میں بی جے پی کے امیدواروں کے لیے گھر گھر جا کر ہندو ووٹروں سے رابطہ قائم کر رہے ہیں۔
آر ایس ایس کی تاریخ میں غالـباً یہ دوسرا موقع ہے جب تنظیم نے انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے اتنے جنگی پیمانے پر اپنے کارکنوں کو سرگرم کیا ہے۔ اس سے پہلے 1977 میں ایمرجنسی کے بعد اندرا گاندھی کو شکست دینے کے لیے سنگھ نے اس وقت کی متحدہ اپوزیشن جماعت جنتا پارٹی کے لیے اپنے کارکنوں کو انتخابی مہم کے لیے اتارا تھا۔
لکھنؤ میں آر ایس ایس کے ایک سینيئر رہنما ڈاکٹر چندر موہن نے بتایا کہ تنظیم نے اپنے تمام کارکنوں کو ’بوتھ نمائندے‘ کی تربیت دی ہے۔ یہ بوتھ نمائندے پولنگ کے دن ووٹروں کے گھر گھر جا کر انھیں ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ مراکز تک لاتے ہیں۔
گجرات میں بھی آر ایس ایس نے کئی حلقوں میں ’مشن صد فی صد‘ کاہدف رکھا ہے۔ سنگھ کے کارکن بی جے پی کے لیے حمایت حاصل کرنے کی غرض سے فیس بک، ٹوئٹر اور دوسرے سوشل نیٹ ورکوں کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق آر ایس ایس ایسے 270 حلقوں پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کر رہی ہے جہاں بی جے پی نے کبھی نہ کبھی کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ وہ مزید ایسے 70 حلقوں میں سرگرم ہے جہاں بی جے پی انتخابات میں دوسرے مقام پر رہی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس بار کے انتخابات میں گذشتہ انتخابات کے مقابلے پورے ملک میں اوسطاً 10 سے 12 فی صد زیادہ ووٹ پڑ رہے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے یہ اضافی ووٹ مودی کے حق میں جا رہے ہیں یا یہ محض رائے دہندگان کی دلچسپی کا نتجیہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
سرکردہ تجزیہ کار ہرتوش سنگھ بل کہتے ہیں کہ الیکشن کے ہر پہلو میں آر ایس ایس شامل ہے ’رائے دہندگان کوپولنگ بوتھ تک لانے سے لے کر امیدوواروں کی تقریروں کی تیاری تک میں سنگھ کے کارکن اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ اس انتخاب کو ہندوتوا کے لیے آخری امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔‘
بی جے پی نے انتخابات میں مضبوط قیادت اور شفاف حکومت کو اپنا موضوع بنا رکھا ہے اور ہندوتوا کے اپنے بنیادی ایجنڈے کو اپنی مہم سے الگ رکھا ہے۔ لیکن حال میں مختلف ریاستوں میں بی جے پی اور سنگھ کے کئی رہنماؤں نے اچانک مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دینا شروع کر دیا ہیں۔
سینیئر صحافی اجیت ساہی کے خیال میں اشتعال انگیز بیانات آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کے نظریات کا حصہ ہیں، ’یہ ان کی پرانی حکمت عملی ہے۔ یہ مودی کی انفرادی پالیسی نہیں بی جے پی اور آر ایس ایس کی بنیادی حکمت عملی ہے۔‘
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آر ایس ایس گذشتہ برسوں میں کافی کمزور پڑ چکی ہے اور اس کی اتنی طاقت اور مقبولیت نہیں رہ گئی ہے جتنی پہلے کبھی ہوا کرتی تھی۔ مودی کی ممکنہ جیت میں وہ اپنا نیا وجود دیکھ رہی ہے اور اسی لیے اس نے اپنی ساری طاقت مودی کی جیت کے لیے لگا رکھی ہے۔







