مودی کی حکومت کا فیصلہ یوپی میں

بی جے پی کو سخت گیر ہندو مذہبی جماعت آر ایس ایس کی حمایت حاصل ہے
،تصویر کا کیپشنبی جے پی کو سخت گیر ہندو مذہبی جماعت آر ایس ایس کی حمایت حاصل ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

لکھنؤ کے وسط میں واقع ایک پارک میں آر ایس ایس کے رضاکار صبح کی معمول کی مشق میں حصہ لے رہے ہیں۔ چند مہینے پہلے تک ان رضاکاروں کو ایک ساتھ جمع کرنا مشکل تھا لیکن انتخابات میں بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کی آمد نے اس زوال پذیر جماعت میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

آر ایس ایس نے اتر پردیش میں گھر گھر جا کر ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے اور انھیں پولنگ کے دن پولنگ بوتھوں تک لانے کو یقینی بنانے کے لیے اپنے اور بی جے پی کے ہزاروں کارکنوں کو تربیت دی ہے۔

لکھنؤ میں آر ایس ایس کے پرچارک اور بی جے پی کے ترجمان ڈاکٹر چندر موہن کو مودی کی حکومت بننے کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’ہمارے کارکن جوش سے بھرے ہوئے ہیں۔ تبدیلی کی خواہش نے مودی کی لہر پیدا کر دی ہے۔ ہم اترپردیش میں اپنے ماضی کے ریکارڈ سے زیادہ سیٹیں حاصل کریں گے۔‘

بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ لکھنؤ سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

دوسری جانب کانگریس ریاست میں کمزور ہے، تاہم اسے گذشتہ بار 22 سیٹیں ملی تھیں۔ ریاست میں کانگریس کے خلاف عوام میں خاصی ناراضگی ہے اور یہی صورتِ حال ریاست کی حکمراں جماعت ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی کی ہے۔ عوام وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے سخت نالاں ہیں۔

بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ لکھنؤ سے انتخاب لڑ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنبی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ لکھنؤ سے انتخاب لڑ رہے ہیں

لیکن کیا کانگریس اور اکھلیش یادو سے ناراضگی کا مطلب یہ ہے کہ عوام اب بی جے پی کی طرف مائل ہیں اور ریاست میں مودی کی لہر چل رہی ہے؟

ریاستی وزیر راجندر چودھری کسی لہر کے وجود سے انکار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’بی جے پی کی لہر صرف میڈیا میں ہے۔ یو پی کے عوام ملک توڑنے والے رہنماؤں کو ووٹ نہیں دیں گے۔ یہاں سماج وادی پارٹی کو پہلے سے زیادہ سیٹیں ملیں گی۔‘

ریاست میں مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی بھی ایک اہم جماعت ہے اور اس بار نئی جماعت ‏عام آدمی پارٹی بھی اتر پردیش میں 70 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے۔

20 کروڑ سے زیادہ کی آبادی والی ریاست میں مسلمانوں کی آبادی 20 فی صد ہے اور ان کی غالب اکثریت مودی کے خلاف ہے اوروہ عموماً بی جے کے خلاف دوسری جماعتوں کے امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار ونیت نارائن بھٹ کہتے ہیں کہ ’اتر پردیش جتنا اہم ہے اتنا ہی مشکل بھی۔ یہاں انتخاب کسی بھی جماعت کےلیے آسان نہیں ہے۔ اس مرحلے پر صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں کانگریس اور سماج وادی پارٹی سے لوگ خوش نہیں ہیں۔ لیکن کیا متنازع مودی کو قبولیت مل پائے گی؟ اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تبدیلی کی خواہش نے مودی کی لہر پیدا کر دی ہے
،تصویر کا کیپشنبعض لوگوں کا خیال ہے کہ تبدیلی کی خواہش نے مودی کی لہر پیدا کر دی ہے

اس بار کے انتخابات میں ہر حلقے میں کم از کم دو لاکھ نئے ووٹرز ہیں جو پہلی بار ووٹ دیں گے۔

مودی نے اپنی انتخابی مہم میں مضبوط قیادت، شفاف حکومت اور ترقی کے موضوع پر توجہ مرکوز کی ہے۔ تبدیلی اور ایک بہتر متبادل کی خواہش نئے ووٹروں کے ساتھ ساتھ پرانے ووٹروں کو بھی مودی کی طرف مائل کر سکتی ہے۔

پارلیمنٹ کی 543 میں سے 80 سیٹیں اتر پردیش میں ہیں۔ ریاست نے ملک کو نو وزرائے اعظم دیے ہیں۔ گذشتہ بار جب اٹل بہاری واجپئی کی حکومت بنی تھی اس وقت بی جے پی کو یہیں سے سب سے زیادہ سیٹیں ملی تھی۔ مودی نے بنارس کو اپنا حلقۂ انتخاب چنا ہے۔ انھیں پتہ ہے کہ وزارت عظمیٰ کا راستہ اتر پردیش سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر بی جے پی کو اقتدار میں آنا ہے تو اسے پہلے اتر پردیش فتح کرنا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے اپنی ساری طاقت اترپردیش پر مرکوز کر رکھی ہے۔