’جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کریں گے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت میں وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے امیدوار نریند مودی کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے کسی بھی ملک کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے میں پہل نہ کرنے کی پالیسی کے حامی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نریندر مودی کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے سابق وزیراعظم بی جے پی کے اٹل بہاری واجپائی کی اس پالیسی کی پیروی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
1998 میں اٹل بہاری واجپائی نے اعلان کیا تھا کہ حالتِ جنگ میں بھارت کھبی بھی کسی ملک کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا۔
بھارت میں ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے انتخابات ہو رہے ہیں اور جمعرات کو 122 حلقوں میں ووٹنگ ہو گی جو کہ انتخابی عمل کا سب سے بڑا دن ہوگا۔
یاد رہے کہ بھارت کے روایتی حریف پاکستان کی جانب سے کوئی ایسی پالیسی لاگو نہیں ہے جس کے تحت جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل پر پابندی ہو۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ ان کا جوہری پروگرام جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کے لیے اہم ہے۔
مودی کے بیان سے پہلے جوہری ہتھیاروں کے حوالہ ایسا ہی بیان بی جے پی صدر راج ناتھ سنگھ بھی دے چکے ہیں۔
نریندر مودی کو بہت سے سیاسی حلقوں کی حمایت حاصل ہے لیکن اسی تناسب سے لوگ انھیں ناپسند بھی کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ کٹر قومیت پرستی اور گجرات کو ترقی کے راستے پر لے جانے والے منتظمین کی انتہائی احتیاط سے بنائی گئی شبیہ مودی کو بھارت پر حکومت کرنے کے لیے اہل امیدوار کے روپ میں پیش کرتی ہے۔
تاہم نریندر مودی کے ناقدین کا خیال ہے کہ وہ بھارت کو سب سے زیادہ تفرقے میں ڈالنے والے سیاستدان ہیں اور اپنے اقتدار کے دوران گجرات میں سنہ 2002 میں ہونے والے فسادات کے لیے معافی مانگنے سے انکار کر چکے ہیں۔
بی جے پی کے مطابق ملک ان فسادات کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ چکا ہے اور جب کانگریس کے خلاف غصہ اور مایوسی اپنے عروج پر پہنچا ہو تب مودی کی قیادت میں اس کے پاس الیکشن جیتنے کا بہترین موقع ہے۔
انتخابی سروے اس امید کو اور بڑھا رہے ہیں جس میں کانگریس کے مقابلے میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کو برتری ملتی نظر آرہی ہے۔







