سونیا گاندھی کی اپیل: ’ہندوستانیت خطرے میں‘

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, برجیش اُپادھیائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کا ’ہندوستانیت خطرے میں‘ والا ویڈیو پیغام ووٹروں پر کیا اثر ڈالے گا، اس کا پتہ تو اگلے ماہ ہی چلے گا لیکن دنیا کی سب سے قدیم جمہوریت امریکہ میں اس طرح کے اشتہارات کئی بار کامیاب ہو چکے ہیں۔
امریکی انتخابی تاریخ کا سب سے کامیاب اور متنازع فیہ ٹی وی اشتہار بھی ایک خوف کی بنیاد پر بنا تھا اور وہ صرف ایک بار نشر ہوا تاہم اس نے اپنا کام کر دکھایا۔
سونیا گاندھی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے: ’وہ اصول کیا ہیں جو ہمارے ملک کا دل ہیں، اس کی روح ہیں۔ وہ ہیں پیار، عزت، امن، چین، بھائی چارہ، عدم تشدد ۔۔۔ یہی ہے ہماری بھارتیتا، ہماری ہندوستانیت۔ آج کے انتخابات میں ہم ملک کی اسی روح کو بچانے کے لیے ان عناصر سے لڑ رہے ہیں جن کا نقطۂ نظر اسے توڑنے اور ہمیں بانٹنے کا ہے۔‘
کینیڈی کے قتل کے بعد نائب صدر لنڈن بی جانسن نے 1964 میں صدارتی انتخابات میں رپبلکن پارٹی کے اپنے حریف بیری گولڈواٹر کے خلاف اشتہار جاری کیا تھا۔
اس کے بعد سیاسی ماہرین کے مطابق تمام توازن بدل گئے اور صدر کی کرسی جانسن کی جھولی میں چلی گئی۔ 50 میں سے 44 امریکی ریاستیں جانسن کے حصے ميں آئیں۔
اس اشتہار کا نام ’دا ڈیزی گرل‘ تھا۔
اس میں ایک چھوٹی سی بچی ڈیزی کا پھول لیے کھڑی ہے اور پھر یکے بعد دیگرے اس کی پنکھڑیوں کو توڑتي ہے اور ساتھ میں گنتی جاتی ہے ایک، دو، تین۔۔۔ جب وہ نو تک پہنچتی ہے تو ایک بھاری رعب دار آواز میں ایک اور الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے --- دس، نو ، آٹھ ، سات۔۔۔ اور جب گنتی ایک تک پہنچتی ہے تو کیمرہ مکمل طور پر زوم ہوکر بچی کی آنکھوں کی پتلیوں پر مرکوز ہو جاتا ہے۔
اور پھر ایک بڑا سا دھماکہ ہوتا ہے۔ آسمان میں اٹھنے والے بادلوں سے واضح ہے کہ وہ ایک جوہری بم کا دھماکہ ہے۔ اور پھر پس منظر سے لنڈن جانسن کی آواز آتی ہے: ’یہی ہے داؤ پر۔ ایک ایسی دنیا جہاں خدا کے بچے جی سکیں یا پھر تاریکی میں گم ہو جائیں۔ ہم یا تو ایک دوسرے سے محبت کریں یا پھر ہم سب موت کو گلے لگا لیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جانسن کے حریف بیری گولڈواٹر دائیں بازو کا خاصا جارحانہ ایجنڈا لے کر الیکشن میں اترے تھے۔ وہ جارحانہ فوجی پالیسی کے حق میں تھے اور ان کے بیانات سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اگر ضرورت آن پڑے تو جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وہ ویت نام جنگ کے حامی تھے اور وہاں بھی جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا مشورہ دے چکے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
یہ اشتہار صرف ایک بار نشر کیا گیا اور پھر جانسن کیمپ نے دانستہ حکمت عملی کے تحت اسے واپس لے لیا۔ خوف کا ماحول پیدا کرنے کے لیے ان پر تنقید بھی ہوئی لیکن اشتہار کے بعد میڈیا میں جو بحث ہوئی وہ بیری گولڈواٹر کی شکست کے لیے کافی تھی۔ اور پھر یہیں سے منفی اشتہارات کا دور چل پڑا۔
رونالڈ ریگن، جمی کارٹر، جارج ایچ ڈبليو بش، بل کلنٹن نے تو اس کا استعمال کیا ہی تھا لیکن اپنے پہلے انتخابات میں ’ہوپ‘ یا امید کے منتر پر وائٹ ہاؤس میں آنے براک اوباما نے بھی اپنے دوسرے انتخابات میں مٹ رومني کے خلاف منفی اشتہارات کا استعمال کیا۔
ڈینور یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر وید نندا لنڈن جانسن کی انتخابی مہم کے دوران ییل یونیورسٹی کے طالب علم تھے اور انھوں نے اس پورے منظر کو دیکھا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ سونیا گاندھی کا یہ ویڈیو اشتہار ایسے وقت پر آیا ہے جب انتخابی ہوا کافی حد تک مودی کے حق میں تیار ہو چکی ہے۔
پروفیسر نندا کہتے ہیں: ’سونیا گاندھی خود اس اشتہار میں ہیں تو شاید اس لیے اس کا تھوڑا اثر ہو سکتا ہے لیکن مودی جب سے اس ریس میں کودے ہیں تب سے ان پر اس طرح کے حملے ہوتے رہے ہیں اور اس کے باوجود ان حق میں رائے عامہ بنتی نظر آئی ہے۔ اس لیے ہندوستانی تناظر میں دیکھیں تو شاید تھوڑی دیر ہو چکی ہے۔‘







