بھارت: کن پارلیمانی سیٹوں پر نظر رکھیں؟

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں نو مرحلوں میں پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں نو مرحلوں میں پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

انڈیا کے پارلیمانی انتخابات میں وہ کون سے حلقے ہیں جن میں سب سے دلچسپ مقابلے ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے؟

واضح رہے کہ بھارت کے پارلیمانی انتخاب نو مرحلوں میں ہو رہے ہیں اور پانچویں مرحلے کی پولنگ جمعرات کو ہو رہی ہے۔

انتخابات کے نتائج کا اعلان آج سے ٹھیک ایک ماہ بعد 16 مئی کو ہوگا۔

بنارس

ہندوؤں کے لیے مقدس ترین شہر بنارس: یہاں سے وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی خود میدان میں ہیں۔ ان کا مقابلہ عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال اور کانگریس کے اجے رائے سے ہے۔

اس سیٹ کا نتیجہ ملک کا سیاسی مستقبل بدل سکتا ہے۔ اگر بی جے پی پارلیمان میں اکثریت حاصل کر بھی لے لیکن مودی بنارس سے ہار جائیں تو ان کے لیے وزیر اعظم بننا تقریباً ناممکن ہوجائے گا، حالانکہ وہ گجرات میں ودودرا سے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔

ایک اخبار کے مطابق یہاں سے پرینکا گاندھی الیکشن لڑنا چاہتی تھیں، اور اگرچہ انھوں نے اس خبر کی تردید کی ہے، لیکن اگر وہ میدان میں اترتیں تو شاید پھر کسی کو اس بات کی پروا نہیں رہتی کہ باقی ملک میں کیا ہو رہا ہے۔

امیٹھی

امیٹھی ہمیشہ سے کانگریس پارٹی کا گڑھ رہا ہے پہلے یہاں سے راجیو گاندھی انتخابات لڑتے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامیٹھی ہمیشہ سے کانگریس پارٹی کا گڑھ رہا ہے پہلے یہاں سے راجیو گاندھی انتخابات لڑتے تھے

اترپردیش کا ہی ایک حلقہ جو ہمیشہ سے کانگریس پارٹی کا مضبوط قلعہ رہا ہے۔ یہاں سے ہمیشہ یا تو نہرو گاندھی خاندان کا کوئی فرد یا ان کا کوئی وفادار رہنما ہی الیکشن لڑتا ہے۔ اس مرتبہ راہل گاندھی میدان میں ہیں اور مقابلہ عام آدمی پارٹی کے شاعر رہنما کمار وشواس اور بی جے پی کی سمرتی ایرانی سے ہے جو ایک ٹی وی سیریل میں اپنی اداکاری کے لیے مشہور ہیں۔

کمار وشواس کئی مہینے سے امیٹھی میں خیمہ زن ہیں اور عام آدمی پارٹی یہ اعلان کر چکی ہے کہ وہ نریندر مودی اور راہل گاندھی دونوں کو ہرانا چاہتی ہے کیونکہ اس کے بغیر موجودہ سیاسی نظام کو نہیں بدلا جاسکتا۔ اس مرتبہ کانگریس فی الحال حکومت سازی کی دوڑ میں کافی پیچھے ہے لیکن اگر خود راہل گاندھی ہار جاتے ہیں تو اس کی بے پناہ علامتی اہمیت ہوگی کیونکہ یہ الیکشن انھی کی سپہ سالاری میں لڑا جارہا ہے۔ ان کی انتخابی مہم خود پرینکا گاندھی نے سنبھال رکھی ہے۔

امرتسر

سکھوں کے اس مقدس شہر میں زبردست مقابلے کی امید کی جا رہی ہے
،تصویر کا کیپشنسکھوں کے اس مقدس شہر میں زبردست مقابلے کی امید کی جا رہی ہے

گولڈن ٹیمپل کا شہر امرتسر جہاں سے راجیہ سبھا میں بی جے پی کے لیڈر ارون جیٹلی اپنے لمبے سیاسی کریئر کا پہلا الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کا مقابلہ کانگریس کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ سے ہے جو ہار گئے تو زیادہ بڑی خبر نہیں بنے گی، کیونکہ ابتدا میں یہ خبریں تھی کہ امرتسر سے الیکشن لڑنے میں ان کی زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔

لیکن اب اطلاعات کانٹے کے مقابلے کی ہیں اور اگر ارون جیٹلی ہار گئے تو یہ بی جے پی کے لیے بڑا دھچکہ ہوگا کیونکہ اس وقت وہ مودی کے سب سے قریبی ساتھی ہیں اور انھوں نے بی جے پی کی پرانی قیادت کو حاشیے پر دھکیلنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

اگر بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو مسٹر مودی کے بعد انھیں ہی سب سے اہم ذمہ داری ملنے کا امکان ہے۔

باغپت

فرقہ وارانہ فسادات کے نتیجے میں 50 ہزار سے زیادہ مسلمان بے گھر ہو گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفرقہ وارانہ فسادات کے نتیجے میں 50 ہزار سے زیادہ مسلمان بے گھر ہو گئے ہیں

یہ مغربی اترپردیش میں جاٹوں کے غلبے والا حلقہ ہے جہاں سے کبھی سابق وزیر اعظم چرن سنگھ منتخب ہوا کرتے تھے۔ اب یہ سیٹ ان کے بیٹے اور وفاقی وزیر اجیت سنگھ کے پاس ہے جو 1989 سے اب تک صرف ایک مرتبہ یہاں سے ہارے ہیں۔

یہ وہی خطہ ہے جہاں گذشتہ ستمبر میں جاٹوں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا جس میں 60 سے زیادہ لوگ ہلاک اور 50 ہزار سے زیادہ مسلمان بے گھر ہوگئے تھے۔

اب اس علاقے میں جاٹوں اور مسلمانوں کا اتحاد ختم ہو گیا ہے جس کا خمیازہ خود اجیت سنگھ کو بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے کیونکہ مسلمان ان سے بھی ناراض ہیں۔

مظفرنگر کے فسادات کم سے کم شمالی ہندوستان میں اس الیکشن کا مرکزی پہلو ہیں کیونکہ تجزیہ نگاروں کے مطابق وہاں ہندو اور مسلم ووٹ بہت حد تک مذہبی بنیاد پر تقسیم ہوا ہے۔

بارمیڑ

جسونت سنگھ کی ریلی میں خواتین
،تصویر کا کیپشنجسونت سنگھ کی ریلی میں خواتین

راجستھان کا وہ حلقہ جہاں سے بی جے پی کے باغی امیدوار جسونت سنگھ میدان میں ہیں۔ پارٹی نے انھیں بارمیڑ سے ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا تھا اس لیے وہ آزاد امیدوار کے طور پر لڑ رہے ہیں۔

انڈیا کی انتخابی جنگ میں اب آزاد امیدوار شاذ و نادر ہی کامیاب ہوتے ہیں لیکن اپنی زندگی کے اس آخری الیکشن میں مسٹر جسونت سنگھ بی جے پی کی قیادت کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ بارمیڑ میں اب بھی اس کے سابق مہاراجہ کی فرماں روائی ہے۔

جسونت سنگھ اور ان کے پرانے قریبی ساتھی لال کرشن اڈوانی دونوں کو بانی پاکستان محمد علی جناح پر ان کے ریمارکس کی وجہ سے بھاری سیاسی قیمت ادا کرنا پڑی تھی۔ اڈوانی کو پارٹی صدر کا عہدہ اور جسونت سنگھ کو پارٹی چھوڑنا پڑی تھی۔

دیگر اہم امیدوار

اس سے قبل اظہرالدین مراد آباد سے کانگریس کے ٹکٹ پر انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے
،تصویر کا کیپشناس سے قبل اظہرالدین مراد آباد سے کانگریس کے ٹکٹ پر انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے

ان کے علاوہ سابق کرکٹر محمد کیف اترپردیش میں پھول پور سے اور محمد اظہر الدین راجستھان میں ٹونک سے کانگریس کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔

’ڈریم گرل‘ ہیما مالینی مندروں کے شہر متھرا سے بی جے پی کی امیدوار ہیں، لوک سبھا کے لیے یہ ان کا پہلا الیکشن ہے۔

بنگلور جنوبی سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی انفوسیز کے بانی نندن نلیکینی بھی الیکشن لڑ رہے ہیں، انھوں نے 70 ارب روپے سے زیادہ کےاثاثوں کا اعلان کیا ہے۔

ممبئی سے عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر سماجی کارکن میدھا پاٹکر بھی پہلی مرتبہ انتخابی میدان میں اتری ہیں۔ ان کے پاس سات لاکھ کے اثاثے بھی نہیں ہیں۔

میدھا پاٹکر نے دریائے نرمدا پر ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کی وجہ سے شہرت حاصل کی تھی اور اب ان کا شمار ملک کے سرکردہ سماجی کارکنوں میں کیا جاتا ہے۔