عوام کے مسائل سمجھنا راکٹ سائنس تو نہیں

جاوید جعفری معروف کامیڈین جگدیپ کے بیٹے ہیں اور اپنی ہرفن مولا اداکاری کے لیے معروف ہیں
،تصویر کا کیپشنجاوید جعفری معروف کامیڈین جگدیپ کے بیٹے ہیں اور اپنی ہرفن مولا اداکاری کے لیے معروف ہیں

بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے پارلیمانی حلقے میں اداکار جاوید جعفری کے میدان میں آنے سے مقابلہ دلچسپ ہوگیا ہے۔

جاوید جعفری عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر لکھنؤ سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

لکھنؤ شہر سے یوں تو کئی جماعتوں کے امیدوار میدان میں ہیں لیکن فلموں سے سیاست میں آنے والے جاوید جعفری کا اصل مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ اور کانگریس کی رہنما ریتا بہوگنا سے ہے۔

فلموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ جاوید جعفری مقبول ٹی وی شو ’بوگی ووگي‘ کے جج بھی ہیں۔

لکھنؤ کی پارلیمانی نشست گذشتہ کئی برسوں سے بی جے پی کے پاس ہے اور اس شہر سے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی بھی رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے لکھنؤ کے متعلق جعفری نے کہا: ’لکھنؤ کی تہذیب اور زبان سے میں واقف ہوں۔ یہاں کے لوگوں سے واقف ہوں۔ ہاں، یہاں کے مسائل کو ابھی اچھی طرح نہیں جانتا، لیکن عوام کے مسائل کو سمجھنا کوئی راکٹ سائنس تو ہے نہیں۔ لوگوں سے بات کرکے ان کی نمائندگی کرنی ہے۔‘

یہاں سے بی جے پی کے امیدوار پارٹی صدر راج ناتھ سنگھ ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہاں سے بی جے پی کے امیدوار پارٹی صدر راج ناتھ سنگھ ہیں

انھوں نے کہا: ’راج ناتھ سنگھ بہت ہی سینیئر لیڈر ہیں اور ریتا بہوگنا جی کے بارے میں بھی میں نے ہوم ورک کر لیا ہے۔ میں ان کے کام کا احترام کرتا ہوں لیکن اس سے گھبرا کر اگر میں چپ بیٹھ گیا تو پھر تو کوئی آگے ہی نہیں آئےگا۔‘

جعفری نے بی بی سی کو بتایا کہ جب انھوں نے عام آدمی پارٹی کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھا تو انھیں حقائق کی سمجھ آئي۔

انھوں نے کہا: ’اروند کیجریوال نے جس طرح آر ٹی آئی قانون کے لیے جنگ لڑی اور بدعنوانی کے خلاف جس طرح تحریک چلائی اس سے مجھے بھی احساس ہوا کہ اس میں حصہ لیا جائے۔‘

لیکن جعفری نے شروع میں یہ نہیں سوچا تھا کہ پارٹی میں شامل ہو کر انھیں الیکشن لڑنا ہے اور وہ خود کو انتخابی مہم تک محدود رکھنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اروند کیجریوال نے ان سے الیکشن لڑنے کی پیشکش کی۔

اپنے فلمی کریئر کے بارے میں انھوں نے کہا: ’اس سے پہلے بھی انتخابات میں مجھے (انتخاب لڑنے کی) پیشکش کی گئی تھی، لیکن مجھے صحیح نہیں لگا تھا اس بار مجھے لگا کہ مجھے سچّائي کے ساتھ رہنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ بدعنوانی اور فرقہ پرستی آج ملک کی جڑوں کو كرید کرید کر اسے کھوکھلا کر رہے ہیں اور عام آدمی پارٹی اس مسئلے پر الیکشن لڑ رہی ہے۔