مودی اور مسلمانوں سے زیادہ جمہوریت کی آزمائش

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
انڈیا کے اس غیر معمولی پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی کے لیڈر نریندر مودی کی نگاہیں وزیراعظم کی کرسی اور ملک کے مسلمانوں کی تاریخ پر ہیں۔
نریندر مودی سن 2001 میں گجرات کے وزیرِاعلیٰ بنے تھے اور اس کے چند ہی دنوں بعد ریاست میں مذہبی فسادات پھوٹ پڑے جن میں سینکڑوں مسلمان مارے گئے۔ بابری مسجد کی مسماری کی یادیں تو کچھ دھندلی ہوئی ہیں لیکن گجرات کے فسادات کی نہیں۔
ان انتخابات میں بی جے پی نے مسلمانوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ہے، نریندر مودی اور ان کی پارٹی کا دعوی ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور انھیں ملک کی ترقی میں شراکت دار بنایا جائے گا۔
لیکن دہلی کی گنجان مسلم آبادیوں میں کسی کو ان کی بات پر اعتبار نہیں۔
شمس الحق پرانی دلّی میں تاریخی جامع مسجد کے سامنے ’فرائیڈ چکن‘ کا کاروبار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مسلمانوں کے لیے گجرات کے فسادات کو بھلانا ممکن نہیں ہے۔۔۔فساد کے لیے مودی ذمہ دار تھے، وہ چاہتے تو کچھ نہ ہوتا۔۔۔لیکن یہ جمہوریت ہے، جیتے گا وہی جسے زیادہ ووٹ ملیں گے ۔‘
ان کے قریب ہی محمد جمیل پرانے موٹر پارٹس کی دکان چلاتے ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ مودی اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے کیونکہ گجرات کے فسادات کے لیے انھیں کوئی سزا نہیں ملی اور نہ انھوں نے اپنی غلطی کا کبھی اعتراف کیا: ’اس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوگی۔۔۔لیکن میڈیا کچھ بھی کہے میں نہیں مانتا کہ وہ وزیراعظم بن سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اگرچہ نریندر مودی پر کبھی کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا یہاں تک کہ کوئی کیس عدالت تک بھی نہیں پہنچا ہے لیکن بڑی تعداد میں مسلمان عام طور پر گجرات کے فسادات کے لیے انھیں ہی ذمہ دار مانتے ہیں۔
اور اگر نریندر مودی ان فسادات کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے معافی مانگ لیں تو کیا مسلمانوں کا غصہ کچھ کم ہوگا؟ یہ سوال میں نے کتب فروش محمد شاہد کے سامنے رکھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہم تو زندہ ہیں ہم سے معافی مانگنے سے کیا ہوگا۔۔۔معافی تو ان لوگوں کے لواحقین سے مانگنی چاہیے جو فسادات میں ختم ہوگئے۔۔۔وہ ہی جانیں کہ معاف کرنا ہے یا نہیں۔‘
جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کہتے ہیں کہ یہ انصاف کا سوال ہے ’ایک فرقے کے لوگ بڑی تعداد میں مارے گئے، اور آپ یہ چاہیں کہ سامنے والے کی کسی کوشش کے بغیر وہ فرقہ خود کھڑے ہوکر یہ کہہ دے کہ ہاں ہم بھول گئے اب آگے بڑھو، یہ تو بڑی ناانصافی کی بات ہے۔‘
نریندر مودی ایک ایسی شخصیت کے مالک ہیں کہ آپ انھیں پسند کریں یا ناپسند، نظرانداز نہیں کرسکتے۔ شاید اسی لیے ان کے چاہنے والے اور مخالفین، اپنی محبت اور نفرت دونوں میں اکثر حد سے گزر جاتے ہیں۔
لیکن تجزیہ نگار بھی مانتے ہیں کہ مودی اور مسلمانوں کے تعلقات میں ایک ایسی خلیج ہے جس پاٹنا آسان نہیں ہے۔
دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر پرشوتّم اگروال مانتے ہیں کہ ’مودی کے دل میں مسلمانوں کے لیے ایک عدم اعتماد کا احساس ہے۔۔۔وہ مسلمانوں کی جانب سے پریشان نظر آتے ہیں۔۔۔اگر وہ سب کو ساتھ لے کر نہیں چلتے تو ہندوستان کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
سینیئر صحافی اجیت ساہی کہتے ہیں کہ ’مودی نے اپنے آپ کو ایک ایسے کونے میں پھنسا لیا ہے جہاں نہ تو انھیں مسلمان ووٹ دیں گے اور نہ الیکشن کے بعد وہ پارٹیاں حکومت سازی میں بی جے پی کا ساتھ دینے کا خطرہ مول لیں گی جو خود مسلمانوں کی حمایت پر انحصار کرتی ہیں۔‘
مسلمانوں میں مودی کے برسراقتدار آنے پر اگر پریشانی نہیں تو فکر ضرور ہے لیکن وہ اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کی بھی مثال دیتے ہیں: ’بی جے پی کی پہلی حکومت نے ہی ہمارا کیا بگاڑ لیا تھا۔۔۔؟‘
اور پرشوتّم اگروال کے مطابق یہ ہی سب سے بڑا المیہ بھی ہے۔ ’مسلمان آج بھی صرف اپنی سکیورٹی کو لے کر پریشان ہیں، کسی بھی جمہوری نظام حکومت میں یہ تو ان کا بنیادی حق ہے لیکن وہ آج بھی اسی کشمکش میں مبتلا ہیں۔‘
لیکن اجیت ساہی کہتے ہیں کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں، کھل کر کسی بھی حکومت کے لیے کوئی ایسا قدم اٹھانا ممکن نہیں ہے جو کسی ایک فرقے کے خلاف ہو، لیکن درپردہ تو بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔۔۔‘
بہرحال، حکومت تو وہ ہی بنائے گا جسے عوام کی اکثریت ووٹ دیگی لیکن نیا رہنما حکمرانی سب پر کرے گا۔
مودی اور مسلمانوں سے زیادہ یہ جمہوریت کی آزمائش ہے۔







