پارلیمانی انتخابات:’ابھی جیتنے کو بہت کچھ ہے‘

کانگریس کوئی ایسا واضح پیغام دینے میں ناکام رہی ہے جس سے نریندر مودی کے تبدیلی کے نعرے کی چمک کم کی جاسکے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکانگریس کوئی ایسا واضح پیغام دینے میں ناکام رہی ہے جس سے نریندر مودی کے تبدیلی کے نعرے کی چمک کم کی جاسکے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

انڈیا کے پارلیمانی انتخابات میں پہلے مرحلے کی پولنگ پیر کو ہوگی اور اگرچہ انتخابی عمل ابھی لمبا ہے لیکن اس کے خدوخال پوری طرح واضح ہو چکے ہیں۔

اب تک یہ الیکشن چار بنیادی نقات پر لڑا گیا ہے۔ اقتصادی ترقی، مضبوط قیادت، بدعنوانی اور فرقہ پرستی۔

پہلے مرحلے میں شمالی مشرقی ریاست آسام کے چودہ میں سے پانچ حلقوں اور تریپورہ کی ایک سیٹ کے لیے پولنگ ہوگی۔ انڈیا میں انتخابی جائزوں پر تو زیادہ اعتبار نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ماضی میں ان کی پیشں گوئیاں اکثر غلط بھی ثابت ہوئی ہیں، لیکن ان کے نتائج اور مجموعی سیاسی ماحول کی بنیاد پر یہ نتیجہ ضرور اخذ کیا جاسکتا ہے کہ فی الحال حزب اختلاف کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو واضح سبتقت حاصل ہے۔

لیکن آسام میں کانگریس کی حکومت ہے اور وہ ان چند ریاستوں میں شامل ہے جہاں کانگریس کو بہتر کارکردگی کی امید ہے۔

مجموعی طور پر اس الیکشن نے اب نریندر مودی بمقابلہ باقی چیلنجرز کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کسی دوسرے رہنما کا کہیں ذکر نہیں ہے اور مودی اپنے اشتہارات میں پارٹی کے نام پر نہیں بلکہ خود ’براہ راست‘ اپنے لیے ووٹ مانگ رہے ہیں۔

کیجروال کی ’عام آدمی پارٹی‘ آئندہ انتخابات میں دہلی میں ایک نیا موڑ لا سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنکیجروال کی ’عام آدمی پارٹی‘ آئندہ انتخابات میں دہلی میں ایک نیا موڑ لا سکتی ہے

بی جے پی نے نریندر مودی کو وزارت عظمیٰ کے لیے اپنا امیدوار بنایا ہے لیکن تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ وہ جس’برینڈ‘ کی سیاست کرتے ہیں وہ دو دھاری تلوار کی طرح ہے۔ گجرات میں دو ہزار دو کے مذہبی فسادات کے سائِے سے وہ ابھی تک نجات نہیں حاصل کرسکے ہیں، جس کا انہیں نقصان اٹھانا پڑے گا، لیکن انہوں نے بہت موثر انداز میں ترقی کا پیغام رائے دہندگان تک پہنچایا ہے۔

اس وقت بہت سے لوگ، جن میں نوجوانوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے، انہیں ایک ایسے مضبوط رہنما کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو ملک کو اقتصادی ترقی کی راہ پرواپس لاسکتا ہے۔

اس کے برعکس حکمراں کانگریس مشکلات کا شکار ہے اور دس سال کی حکمرانی کے بعد فی الحال کوئی ایسا واضح پیغام دینے میں ناکام رہی ہے جس سے نریندر مودی کے تبدیلی کے نعرے کی چمک کم کی جاسکے۔

کانگریس کےدور اقتدار میں بدعنوانی کے کئی بڑے الزامات سامنے آئے جس سے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ گذشتہ دو تین برسوں میں یہ تاثر بھی مضبوط ہوا ہے کہ پارٹی فیصلہ کن قیادت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے اقتصادی ترقی کی رفتار نو فیصد کے بجائے واپس چار سے پانچ فیصد کےدرمیان پہنچ گئی ہے۔

لیکن یہ انتخابی عمل کا صرف آغاز ہے اور تجزیہ نگار باور کرا رہے ہیں کہ وزیر اعظم کی کرسی کس کے ہاتھ لگے گی یہ فی الحال کوئی نہیں کہہ سکتا کیونکہ کسی بھی ایک پارٹی کو واضح اکثریت ملنے کا امکان نہیں ہے۔ اس فیصلے میں علاقائی جماعتیں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں۔