الیکشن: بھارتی نوجوان کس طرف جائے گا؟

،تصویر کا ذریعہPTI
بھارت میں پہلی مرتبہ ووٹ دینے والے نوجوان ووٹروں کی بڑی تعداد کسی بھی سیاسی جماعت کی ہار جیت کا فیصلہ کر سکتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ نوجوانوں کے دل میں ہے کیا۔
گذشتہ عام انتخابات کے دوران اہم سیاسی جماعتوں کو ملنے والے ووٹوں اور عام رائے دہندگان کے پس منظر میں کانگریس کو تقریباً 12 کروڑ ووٹ ملے تھے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو سات کروڑ 80 لاکھ ووٹ حاصل ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ بہوجن سماج پارٹی کو دو کروڑ 60 لاکھ اور مارکسی پارٹی کو دو کروڑ 20 لاکھ ووٹ ملے۔
آئندہ انتخابات میں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ 18 سے 22 سال کی عمر والے وہ نوجوان جو پہلی بار ووٹ ڈالنے والے ہیں وہ ایک بڑی اور نئی سیاسی تبدیلی لانے والے ہیں۔
خیال ہے کہ یہ نوجوان ووٹر کسی بھی پارٹی کی ہار اور جیت کا فیصلہ کر سکتے ہیں، تاہم کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ جو لوگ ایسا سوچ رہے ہیں وہ غلط سوچ رہے ہیں کیونکہ جو سیاسی جماعتیں ایسے ووٹوں پر زیادہ انحصار کر رہی ہیں ان کے لیے پانسہ پلٹ بھی سکتا ہے کیونکہ بھارتی نوجوان طبقہ مشکل سے ہی ایک ساتھ مل کر الیکشن میں شریک ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
دوسرے رائے دہندگان کی طرح ان کی بھی مختلف شناختیں اور طبقات ہیں جو مذہب، ذات پات، جنس اور عمر پر انحصار کرتے ہیں۔
بھارتی نوجوان ذات پات اور طبقات کی شناخت سے سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں جس سے صاف ظاہر ہے کہ جب نوجوان ووٹ ڈالتا ہے تو وہ بھی ذات پات، گروہ اور شناخت پر تقسیم ہو جاتا ہے۔
نوجوان اپنی عمر سے وابستہ مسائل کے بارے میں متحد نہیں ہو پاتے اور کچھ حد تک وہ مذہب اور علاقائی سیاست سے بھی اثر انداز ہو جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سینٹر فار دی سٹڈی آف ڈویلپنگ سوسائٹیز کی جانب سے پچھلے کئی سالوں میں کیے جانے والے جائزوں کے مطابق بھارتی رائے دہندگان کی عمر اور جنسی بنیادوں پر شناخت سب سے کمزور ہوتی ہے اور نوجوانوں میں تو یہ اور بھی کمزور ہے۔
خواہ وہ عام انتخابات ہوں یا اسمبلی الیکشن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ خواتین نے خواتین کی قیادت والی پارٹی کو بڑھ چڑھ کر ووٹ دیے ہوں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
چاہے مغربی بنگال میں ممتا بینرجی ہوں یاپھر جنوبی بھارت میں جے للتا یا پھر اترپردیش میں مایا وتی ہوں یا دلی کی شیلا دکشت۔
ایسا کبھی بھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ نوجوانوں نے نوجوان لیڈروں کی حمایت کی ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے منشور یا پالیسیوں میں نوجوانوں کے کسی بھی مسئلے یا ایشو پر بات نہیں کر رہی یہاں تک کے بائیں بازو کی جماعتیں بھی جنہیں نوجوانوں کی حمایت بڑے پیمانے پر حاصل تھی وہ بھی نوجوانوں کے بے روز گاری جیسے سب سے بڑے مسئلے کو ختم کرنے کے لیے کوئی حکمتِ عملی بنانے میں ناکام رہی ہے۔
حالانکہ اس بار تبدیلی کے کچھ اشارے ملے ہیں ماضی میں چاہے بھارتی نوجوان ایک متحد طبقے کے طور پر ووٹ نہ ڈالتے رہے ہوں لیکن اس بار وہ کہیں نہ کہیں متحد نظر آ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
ہندی بولنے والے علاقوں میں نوجوانوں کا رجحان بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب نظر آرہا ہے جبکہ دلی میں یہ رجحان عام آدمی پارٹی کی جانب ہے لیکن یہ آدھے ادھورے بھارت کی حقیقت ہے۔
اس طرح کے کوئی رجحان نہ تو مغربی بنگال، آسام اور اڑیسہ میں نظر آتے ہیں اور نے ہی شمال مشرقی ریاستوں منی پور، میزو رام، میگھالے، اروناچل پردیش، سکم اور ناگا لینڈ میں بھی اس طرح کا کوئی رجحان نہیں ہے۔
اگر 2014 کے انتخابات میں ہندی بولنے والے علاقوں کے نوجوان بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں ووٹ دیتے ہیں تو بھی باقی ملک کے نوجوانوں تقسیم رہیں گے۔







