بی جے پی کو اب بس داؤد ابراہیم کا انتظار

بی جے پی کے رہنما مختار عباس نقوی اس قدر برہم ہوئے کہ صابر علی پارٹی میں آئے بھی نہ تھے کہ نکالے گئے

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنبی جے پی کے رہنما مختار عباس نقوی اس قدر برہم ہوئے کہ صابر علی پارٹی میں آئے بھی نہ تھے کہ نکالے گئے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

ہیرلڈ ولسن کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا، 1964 سے 1970 کے درمیان وہ برطانیہ کے وزیرِ اعظم تھے۔ انھوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ سیاست میں ایک ہفتہ بھی لمبا عرصہ ہوتا ہے، اس دوران کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

لیکن وہ انٹرنیٹ اور موبائل فون سے پہلے کا زمانہ تھا۔ پیغام رسانی میں وقت لگتا تھا لہٰذا سیاست کی رفتار بھی ذرا سست تھی۔ اب وقت بدل گیا ہے اور بی جے پی نے گذشتہ ایک ہفتے میں اس کی دو بہترین مثالیں پیش کی ہیں۔

پارٹی کو لگ رہا ہے کہ وزیرِ اعظم کی کرسی بس اب اس کی گرفت میں ہے اور اب وہ کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی۔ اس لیے جہاں جس کا ساتھ مل جائے گرم جوشی کے ساتھ اسے گلے لگایا جارہا ہے لیکن کتنی دیر کے لیے اس کی کوئی گارنٹی نہیں۔

جنوبی ریاست کرناٹک میں قدامت پسند تنظیم سری رام سینے کے سربراہ پرمود متھالک کا نام آپ نے شاید نہ سنا ہو، وہ سماجی اور مذہبی اقدار کے خود ساختہ علم بردار ہیں اور نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ’راہِ راست‘ پر رکھنے کے لیے تشدد کا سہارا لینے سے بھی نہیں چوکتے۔

بی جے پی نے انھیں کافی گرم جوشی کے ساتھ پارٹی میں شامل کیا لیکن جب اس فیصلے پر سخت تنقید ہوئی تو چند ہی گھنٹوں کے اندر انھیں پارٹی سے نکال بھی دیا۔

سری رام سینے کی سربراہ پرمود متھالک بھی پارٹی آئے ہی تھے کہ نکالے گئے

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنسری رام سینے کی سربراہ پرمود متھالک بھی پارٹی آئے ہی تھے کہ نکالے گئے

اسی طرح بہار میں جنتا دل یونائٹڈ کے رہنما صابر علی کا ڈھول تاشوں کے ساتھ پارٹی میں استقبال ہوا، لیکن ان کی شمولیت پر بی جے پی کے پرانے مسلم چہرے مختار عباس نقوی اس قدر مشتعل ہوگئے کہ انھوں نے صابر علی پر دہشت گردوں سے وابستگی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اب پارٹی میں بس داؤد ابراہیم کا انتظار ہے۔

پارٹی استحکام کا وعدہ کر رہی ہے لیکن صابر علی سکون سے بیٹھ بھی نہیں پائے تھے کہ ان کی رکنیت معطل کر دی گئی۔ طنزیہ ہی سہی، اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسے حالات میں داؤد ابراہیم یہ دعوت قبول کرتے ہیں یا نہیں۔

جہاں تک کانگریس کا سوال ہے، وہ بالکل سکون سے ہے، اسے ایسی کسی آزمائش کا سامنا نہیں ہے کیونکہ دروازے تو اس کے بھی کھلے پڑے ہیں بس وہاں جانے والا کوئی نہیں ہے۔

نام میں کیا رکھا ہے؟

کانگریس رہنما اجیت جوگی کا مقابلہ کتنے چندو سے ہے یہ شاید انھیں بھی نہ معلوم ہو

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکانگریس رہنما اجیت جوگی کا مقابلہ کتنے چندو سے ہے یہ شاید انھیں بھی نہ معلوم ہو

اجیت جوگی بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ ہیں، انھیں کانگریس نے اس مرتبہ مہاسمونڈ لوک سبھا حلقے سے میدان میں اتارا ہے۔ ان کا مقابلہ بی جے پی کے ایم پی چندو لال ساہو سے ہے۔

نامزدگی کا عمل پورا ہو چکا ہے اور آپ مانیں یا نہ مانیں میدان میں چھ چندولال اور چار چندورام ساہو موجود ہیں۔

اگر آپ سازشوں پر آسانی سے یقین کرتے ہیں تو ظاہر ہے شبہہ اجیت جوگی پر ہی کریں گے کہ وہ ووٹروں کو کنفیوز کرنے کی کوش کر رہے ہیں، اور اخبارات کا بھی یہ ہی کہنا ہے، لیکن اجیت جوگی کی مشکل کے بارے میں بھی تو ذرا سوچیے، وہ خود یہ فیصلہ کیسے کریں گے کہ ان کا اصل حریف کون ہے۔

خامشی بھی سنائی دیتی ہے

یہاں یہ مصرعہ شاید موزوں آ جائے: خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیہاں یہ مصرعہ شاید موزوں آ جائے: خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری

راہول گاندھی کی قریبی معتمد میناکشی نٹراجن مدھیہ پردیش سے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ وہ مہاتما گاندھی کے اصولوں پر چلتی ہیں، اس لیے انتخابی مہم کے شور شرابے کے باوجود سنیچر کو خود احتسابی کےلیے 24 گھنٹے کا’مون ورت‘ (چپ کا روزہ) رکھتی ہیں۔

فی الحال الیکشن کا جو رخ چل رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ باقی ہفتے کانگریس کے باقی رہنما خود احتسابی کر رہے ہیں۔