گدگدی کی سزا

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

فوج کو پیروں میں گدگدی برداشت نہیں

الزام ہے کہ کرنل نے اپنے جونیئر افسران کی بیویوں سے چھیڑ خانی کی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنالزام ہے کہ کرنل نے اپنے جونیئر افسران کی بیویوں سے چھیڑ خانی کی

انڈیا کی مسلح افواج کو آج کل عجیب و غریب مشکلات کا سامنا ہے۔

پتھری بل کیس کے بارے میں تو آپ نے سنا ہی ہوگا۔ الزام یہ تھا کہ فوج نے پانچ معصوم کشمیریوں کو قتل کیا اور انہیں غیر ملکی دہشت گرد بتاکر ان کی لاشیں ٹھکانے لگا دیں۔ لمبی قانونی کارروائی کے بعد خود فوج نے اپنے پانچ افسران پر مقدمہ چلایا اور پھر انہیں یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ ان کے خلاف کوئی کیس نہیں بنتا۔

اس فیصلے پر سخت تنقید کے بعد فوج نے شاید سبق سیکھ لیا ہے۔ اب بظاہر ’زیرو ٹالرنس’کی پالیسی اختیار کی گئی ہے، جو جرم کرے گا اسے بخشا نہیں جائے گا۔شاید اسی لیے فوج نےخواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے ایک کیس میں ایک کرنل کے خلاف فردِ جرم داخل کی ہے۔

الزام یہ ہے کہ کرنل نے اپنے جونیئر افسران کی بیویوں کا بوسہ لیا، ان پر گھٹیا فقرے کسے، ہاتھ کی لکیروں کو پڑھ کر مستقبل کاحال بتانے کے بہانے ان کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور ان کے پیروں میں گدگدی کی۔ باقی باتیں تو سمجھ میں آتی ہیں لیکن پیروں میں گدگدی کیسے کی ہوگی، یہ ہماری بھی سمجھ سے باہر ہے۔ بہرحال، فوج پتہ لگا ہی لے گی۔

کرنل صاحب نے اگر اپنے ہاتھ کی لکیریں بھی پڑھ لی ہوتیں تو شاید یہ نوبت نہ آتی۔ بہرحال، صاف ظاہر ہے کہ فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے، اب بس انصاف کے کچھ پرانے تقاضوں کو پورا کرنے کی باری ہے۔

صرف سونا نقلی ہے یا عقیدت بھی؟

،تصویر کا ذریعہAFP

ہرسال تقریباً ایک کروڑ ہندو عقیدت مند لمبا اور دشوار گزار پہاڑی راستہ پیدل طے کر کے جموں کے ویشنو دیوی مندر میں ماتھا ٹیکنے جاتے ہیں۔ ویشنو دیوی منھ مانگی مرادیں پوری کرنے والی ماتا کے نام سے بھی مشہور ہے۔ ہندو مانتے ہیں کہ اس در سےکوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا اس لیے نذرانہ پیش کرتےوقت پیسے کی پروا نہیں کرتے۔

مندر کی انتظامیہ کے مطابق گذشتہ پانچ برسوں میں عقیدت مندوں نے 194 کلو سونا اور 81 ٹن چاندی کا نذرانہ پیش کیا۔ لیکن افسوس کہ اس میں آدھی سے زیادہ چاندی اور 40 کلو سے زیادہ سونا نقلی نکلا۔

عقیدت مندوں کی پریشانی بھی سمجھی جاسکتی ہے، سونے کی قیمت 30 ہزار روپے فی دس گرام سے بڑھ گئی ہے۔ کچھ کو تو ضرور سناروں نے دھوکہ دیا ہوگا لیکن جن لوگوں نے دانستہ طور پر نقلی سونا چڑھایا ہے ان کے لیے مشورہ یہ ہے کہ جس کے در پر فریاد لے کر جا رہے ہیں، سر جھکا رہے ہیں، کم سے کم اسے تو بخش دیجیے۔

آپ کو تو معلوم ہی ہوگا کہ ہندوستان میں ایمانداری کا دور شروع ہو چکا ہے، کوئی بے ایمانی برداشت نہیں کی جائے گی، نہ دین میں نہ دنیا میں نہ فوج میں۔

آپ کا صرف سونا ہی نقلی ہے یا عقیدت بھی؟

خود کشی کی راہ آسان

انڈیا میں وفاقی حکومت خود کشی کو جرم کے زمرے سے نکالنے پر غور کر رہی ہے۔

حکومت کو شاید یہ اطلاع ہو گئی ہے کہ اپنی خوشی سے کوئی اپنی جان نہیں لیتا۔ کیونکہ جو لوگ خوش ہوتے ہیں وہ زندہ دلی کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔ قانون بدلے گا تو بہت سے ایسے لوگوں کو سہولت ملے گی جو نفسیاتی بیماریوں کی وجہ سے یا اپنی ذاتی پریشانیوں سے عاجز آ کر اپنی جان لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ دنیا کا شاید واحد قانون ہے جس میں آپ کو سزا اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب آپ قانون توڑنے میں ناکام ہو جائیں۔ بہر حال، وقت اور قانون دونوں بدل رہے ہیں، یا یوں کہیے کہ بدلتے ہی رہتے ہیں۔ ہم جنس پرستی کی ہی مثال لے لیجیے، پہلے ہم جنس پرستی جرم تھی، پھرچار سال تک جرم نہیں تھی، اب پھر ہے۔

پھر بھی انصاف کا ایک تقاضہ تو پورا ہو رہا ہے لیکن لوگ ہیں کہ مانتے کہاں ہیں۔ وہ اب پتھری بل کے ملزمان کے لیے سزا اور ہم جنس پرستوں کے لیے آزادی مانگ رہے ہیں۔ فی الحال، پتھری بل کے ملزمان کے حصے میں آزادی آئی ہے اور ہم جنس پرستوں کے حصے میں سزا۔