شادی ابھی نہیں یا کبھی نہیں؟

رنبیر کپور اور قطرینہ کے عشق کا ذکر یہاں وہاں سننے کو مل ہی جاتا ہے
،تصویر کا کیپشنرنبیر کپور اور قطرینہ کے عشق کا ذکر یہاں وہاں سننے کو مل ہی جاتا ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

ملک میں چاہے ہم جنس پرستی پر صف بندی ہو، دہلی میں کوئی بھی پارٹی حکومت بنانے کے لیے تیار نہ ہو، کانگریس وجود کی جنگ لڑ رہی ہو، انا ہزارے پھر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوں، اراکین پارلیمان سٹنگ آپریشن میں پیسے لیتے ہوئے پکڑے جارہے ہوں، مہنگائی پھر نئی حدیں پار کر رہی ہو، صنعتی پیدوار پھر گر رہی ہو۔۔۔لیکن کیا کیجیے نظر پھر بھی قطرینہ کیف کی شادی کی خبر پر رک ہی جاتی ہے۔

بالی وڈ میں اگرچہ خبر اور افواہ میں فرق کم ہی ہوتا ہے اور ہیرو ہیروئن کبھی ایک دوسرے کے عشق میں گرفتار نہیں ہوتے، بس اچھے دوست ہوتے ہیں، لیکن رنبیر کپور اور قطرینہ کے عشق کا ذکر یہاں وہاں سننے کو مل ہی جاتا ہے، اور کئی دنوں سے اب یہ قیاس آرائی بھی تھی کہ وہ جلدی ہی شادی کرنے والے ہیں۔ لیکن اب قطرینہ نے کہہ دیا ہے کہ وہ ’نہ فی الحال کسی سے شادی کر رہی ہیں، نہ دس سال میں، نہ بیس سال میں، نہ تیس سال میں اور شاید کبھی نہیں۔‘

رنبیر، بس ذرا انتظار، عمر قید کی طرح ’کبھی نہیں‘ کی بھی کچھ تو مدت ہوتی ہوگی۔ قطرینہ نے کم سے کم یہ تو نہیں کہا کہ وہ کبھی نہیں کے بعد بھی شادی نہیں کریں گی۔ ہاں یہ ضرور چیک کر لیجیے گا کہ آپ کا نام فہرست میں شامل ہے بھی یا نہیں کیونکہ بالی وڈ کی خبروں اور افواہوں میں فرق کرنا ہمیں نہیں آتا! خود قطرینہ سے ہی پوچھ لیجیے کہ وہ شادی سے ہی یکسر انکار کر رہی ہیں یا صرف آپ سے شادی کرنے سے انکار کر رہی ہیں؟

جو ہارا وہ سکندر

دہلی کے اسمبلی انتخابات کے بعد ایک ایسی عجیت و غریب صورتِ حال سامنے آئی ہے جو شاید پہلے کبھی کسی نے نہ دیکھی ہو۔ کوئی بھی پارٹی حکومت بنانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

بی جے پی کو 70 میں سے 32 اور عام آدمی پارٹی کو 28 سیٹیں ملی ہیں
،تصویر کا کیپشنبی جے پی کو 70 میں سے 32 اور عام آدمی پارٹی کو 28 سیٹیں ملی ہیں

بی جے پی کو 70 میں سے 32 اور عام آدمی پارٹی (آپ) کو 28 سیٹیں ملی ہیں لیکن وہ خود کوشش کرنے کے بجائے ’پہلے آپ پہلے آپ‘ کے اصول پر ایک دوسرے کو حکومت سازی کی دعوت دے رہی ہیں۔ کانگریس عام آدمی پارٹی کو بلا شرط حمایت دینے کے لیے تیار ہے، بس اس کی حمایت لینے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ اور اب عام آدمی پارٹی نے کانگریس اور بی جے پی سے پوچھا ہے کہ ان کی غیرمشروط حمایت کن شرائط پر ہوگی؟

اب بظاہر صدر راج کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے، جلد ہی دوبارہ انتخابات ہوں گے، اور ایسے میں الیکشن جیتنے والے پریشان ہیں کیونکہ وہ جیت کر بھی جیتے نہیں اور ہارنے والے اپنے آنسو پونچھ کراب خوش ہیں کیونکہ انھیں دوبارہ اپنی قسمت آزمانے کا جو موقع پانچ سال میں ملنا تھا، اب دو تین مہینوں میں ہی مل جائے گا۔

ہمیشہ جیتنے والا ہی سکندر ہو، یہ ضروری نہیں۔

انا ہزارے پھر بھوک ہڑتال پر

سماجی کارکن انا ہزارے کی زندگی کا مقصد بدعنوانی کی روک تھام ہے۔ لوک پال بل منظور کروانے کے لیے وہ دوبارہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں، اور حکومت نے پھر ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔

اس پر مشہور مصنف چیتن بھگت نے کہا کہ ’انا بہت اچھے (سوئیٹ) انسان ہیں، افسوس کہ لوگ انھیں بس اسی وقت سنجیدگی سے لیتے ہیں جب وہ بھوکے ہوتے ہیں!‘

لگتا ہے کہ رحم دل حکومت سے اپنے شہریوں کی بھوک برداشت نہیں ہوتی، اور لگتا ہے کہ اس مرتبہ انا سے بھی بھوک برداشت نہیں ہو رہی کیونکہ انھوں نے حکومت کے پیش کردہ جن لوک پال بل کو ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔ حالانکہ اروند کیجری وال کا کہنا ہےکہ یہ بل اتنا کمزور ہے کہ اس کے تحت وزیر تو کیا کسی چوہے کو بھی جیل نہیں بھیجا جاسکتا۔

اروند، آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ چوہوں کو جیل بھیجنا آسان ہوتا ہے؟ یہ سچ ہے کہ انڈیا کی جیلوں میں بہت چوہے ہوتے ہیں لیکن وہ وہاں روزی روٹی کی تلاش میں اپنی مرضی سے جاتے ہیں، سزا کاٹنے نہیں!