’کیا کرتا جو بچ جاتے‘

16 دسمبر کے واقعے کی شکار لڑکی کا کسی نے دامنی نام دیا تو کسی نے نربھیا کہا لیکن اس کے بعد بھارت میں ریپ کے متعلق سخت قوانین بنائے گئے
،تصویر کا کیپشن16 دسمبر کے واقعے کی شکار لڑکی کا کسی نے دامنی نام دیا تو کسی نے نربھیا کہا لیکن اس کے بعد بھارت میں ریپ کے متعلق سخت قوانین بنائے گئے
    • مصنف, ونیت کھرے
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی

ایک سال پہلے 16 دسمبر کی وہ سیاہ رات جب دہلی کی ایک چلتی بس میں ایک 22 سالہ لڑکی کے ساتھ ہونے والے اجتماعی ریپ کے واقعے نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

ملک کے کئی حصوں میں احتجاج ہوئے، بین الاقوامی سطح پر یہ واقعہ بحث کا موضوع بنا، حکومت حرکت میں آئی اور قانون سخت ہوئے۔ بعض لوگوں کے مطابق یہ اس کے بعد آنے والی بیداری کا ہی اثر ہے کہ اب بڑی تعداد میں خواتین اپنے ساتھ پیش آنے والے پر تشدد واقعات کے بارے میں بتانے کے لیے کھل کر سامنے آنے لگی ہیں۔

دہلی گینگ ریپ معاملے میں چار افراد کو پھانسی کی سزا ہوئی۔ ایک ملزم رام سنگھ جیل میں مردہ پایا گیا جبکہ چھٹے کم عمر ملزم کو نابالغوں کی عدالت نے تین سال کے لیے اصلاحی مرکز بھیج دیا تھا۔ لیکن اس بہیمانہ تشدد کے چشم دید گواہ اور متاثرہ لڑکی نربھيا کے دوست پر اس واقعہ کا سایہ آج بھی منڈلا رہا ہے۔

گذشتہ 365 دنوں میں ہر دن نے انہیں اس رات کی درندگی کا احساس دلایا ہے۔ وہ اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے وہ کہتے ہیں: ’جو میری دوست کے ساتھ ہوا وہ ایک بھیانک خواب کی طرح تھا۔ حادثے کے بعد پولیس سٹیشن جانا، ملزمان کی شناخت کرنا، عدالت جانا، خاندان کا دکھ بانٹنا، میرے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بہت مشکل تھا۔‘

تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس بات چیت کے دوران کئی بار ایسا محسوس ہوا کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہیں اور کبھی بھی وہ رو پڑیں گے۔ بات کرتے ہوئے ان کا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا لیکن ان کے منہ سے لفظ بہت سنبھل کر نکل رہے تھے۔

انھوں نے کہا: ’مجھے ہمیشہ ایسا لگتا تھا کہ میں کچھ ایسا نہیں کروں کہ میں کمزور کہلاؤں۔ دوسروں کو کچھ کہنے کا موقع نہیں دوں۔ میں کچھ ایسا کر کے دكھاؤں کہ لوگوں کا میرے بارے میں ایک الگ نظریہ بنے۔‘

لیکن وہ کہتے ہیں: ’اس رات کی باتیں ہمیشہ میرے ذہن میں گھومتی رہتی ہیں۔ 16 دسمبر کی رات کے بعد جب بھی میں ایسے کسی واقعہ کے بارے میں سنتا ہوں تو میں خود کو اپنی دوست سے منسلک محسوس کرتا ہوں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ جو نربھيا کے خاندان کے ساتھ ہوا، وہ میرے خاندان کے ساتھ ہی ہوا۔ اس سے مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔‘

انھوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ انسانوں کے درمیان ایسے لوگ چھپے ہیں جو اس حد تک جائیں گے، ہمارے ساتھ جرم کر سکتے ہیں، حیوانیت کر سکتے ہیں۔‘

وہ ایک غیرسرکاری تنظیم کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن کیا وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ گذشتہ ایک سال میں واقعی ان کی دوست کی یاد کے ساتھ انصاف ہوا ہے؟

وہ کہتے ہیں: ’ہم ایسا کبھی نہیں کہہ سکتے کہ نربھيا کے ساتھ انصاف ہوا۔ نظام کی غلطیوں میں ہم سب شامل تھے۔ اس میں ہمارا بھی اتنا ہی حصہ ہے۔ جب پہلے غلطیاں ہوئیں تو ہم بیدار نہیں تھے اس کے بعد اتنا بڑا حادثہ ہو گیا۔ لیکن اگر ہم ایسے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روک سکیں تو یہ ان کو خراج تحسین ہوگا۔‘

دہلی میں اس واقعے کے بعد مسلسل مظاہرے ہوئے ملزمان کے لیے پھانسی کی مانگ کی گئی
،تصویر کا کیپشندہلی میں اس واقعے کے بعد مسلسل مظاہرے ہوئے ملزمان کے لیے پھانسی کی مانگ کی گئی

دہلی گینگ ریپ کے واقعے کے بعد کی گئی سرکاری کارروائیوں اور رہنماؤں کے وعدوں کے تئیں وہ پر امید نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے: ’میں قوانین میں ترمیم سے بہت پر امید نہیں ہوں، جیسا کہ سیاستدان میڈیا میں جا کر وعدے کرتے ہیں۔ ذاتی زندگی میں باتیں مختلف ہوتی ہیں، انھوں نے جو تبدیلی کی یقین دہانی کرائی ہے وہ پوری نہیں ہوگی۔ وہ ایسے متعدد معاملات کے پیش آنے کا انتظار کرتے رہیں گے۔‘

نربھيا کے دوست کا خیال ہے کہ جتنی کارروائی ان کے معاملے میں ہوئی اتنی دوسرے معاملوں میں نہیں ہوئی اور یہ دکھ کی بات ہے۔

اس واقعے کے بعد وہ ذاتی طور پر تو زیادہ احتیاط نہیں برتتے خواہ وہ رات میں بس پکڑنے کی بات ہو یا پھر گھر سے باہر نکلنا ہو لیکن وہ اپنی خاتون دوستوں کو احتیاط برتنے کے لیے ضرور کہتے ہیں۔

لیکن گذشتہ ایک سال میں جو بات ان کے دماغ کو بار بار كریدتی ہے کہ کیا اس واقعے کو روکا جا سکتا تھا؟

وہ کہتے ہیں: ’اگر آپ کے ساتھ کوئی دوست ہو تو آپ کبھی نہیں چاہو گے کہ اس کے ساتھ کچھ ہو جائے؟ ایک بات جو ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ہے کہ میں وہاں تھا، شاید ہم یہ کرتے، ہم وہ کرتے تو بچ جاتے۔ تمام باتیں ذہن میں آتی ہیں۔ ذہن سوچتا ہی رہتا ہے۔‘